.

"القاعدہ کے مالی معاون" سے متعلق سوال پر قطر کے سفیر کی بوکھلاہٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ ہفتے کے دوران خلیجی اور عرب ممالک کی جانب سے جن میں سعودی عرب ، امارات ، بحرین اور مصر سر فہرست ہیں.. قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے گئے۔ اس کے بعد سے قطر یہ کوشش کر رہا ہے کہ وہ مغربی ممالک بالخصوص امریکا میں سفارتی راستوں سے خود پر سے دہشت گردی کے لیے مالی رقوم کی فراہمی کے شبہے کو دور کرے۔

تاہم ایسا نظر آتا ہے کہ قطر ابھی تک اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوا۔ بالخصوص جمعے کے روز امریکی صدر کے اس بیان کےبعد جس میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت میں قطر ایک پوری تاریخ رکھتا ہے۔

اسی طرح کچھ روز قبل واشنگٹن میں قطر کے سفیر مشعل بن حمد آل ثانی ایک انٹرویو کے دوران اُس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے جب "سی این این" چینل کی خاتون میزبان نے ان سے قطر کی دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے حوالے سے سوال کر ڈالا۔

غالبا یہ بوکھلاہٹ اُس وقت عروج پر تھی جب وہ القاعدہ کو مالی رقوم فراہم کرنے کے ملزم سعد بن سعد الکعبی کی "صورت حال" کے حوالے سے جواب دے رہے تھے۔ اس موقع پر قطری سفیر اسی جواب کو دُہراتے رہے جو درحقیقت اس سوال کا جواب نہیں تھا کہ قطر کو الکعبی کے خلاف عدالتی کارروائی سے کس چیز نے روکا جب کہ وہ دہشت گردی سے متعلق اقوام متحدہ ، امریکا اور خلیجی ممالک کی فہرستوں میں شامل ہے۔

جب خاتون میزبان نے قطری سفیر سے پوچھا کہ آیا قطر القاعدہ کو مالی رقوم کی فراہمی پر سعد بن سعد الکعبی کو عدالت کے کٹہرے میں لائے گا یا اُسے گرفتار کیا گیا ہے.. تو اس پر مشعل بن حمد نے " ٹال مٹول" سے کام لینے کی کوشش کی اور دو مرتبہ صرف اتنا جواب دینے پر اکتفا کیا کہ قطر کی عدلیہ دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق کئی مقدمات کو دیکھ رہی ہے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل سعودی عرب ، امارات ، بحرین اور مصر نے ایک تفصیلی بیان میں قطر کی ان شخصیات ، اداروں اور تنظیموں کے نام جاری کیے تھے جو دہشت گردی کو سپورٹ کرنے کے ساتھ اس کے لیے مالی معاونت بھی کر رہی ہیں۔ ان ناموں میں سعد بن سعد الکعبی کا نام نمایاں ہے جس کا شمار القاعدہ تنظیم کو مالی رقوم فراہم کرنے والی شخصیات میں ہوتا ہے۔

الکعبی نے شام میں القاعدہ تنظیم کے واسطے مالی رقوم جمع کرنے کے لیے دیگر قطریوں کی مدد سے "شام کی امداد" کے نام سے ایک مہم بھی چلائی تھی۔

اسی سبب اقوام متحدہ نے 2015 سے سعد الکعبی کا نام کالعدم شخصیات کی فہرست میں درج کر لیا تھا۔