.

اسرائیل نے غزہ کے علاقے میں بجلی کی فراہمی کم کر دی

’غزہ کو روزانہ صرف 45 منٹ بجلی دیں گے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق داخلی سلامتی کے وزیر گیلاد اردان نے فلسطین میں غربت کے شکار علاقے غزہ کی پٹی کو فراہم کی جانے والی بجلی میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ غزہ کی پٹی کا علاقہ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے زیر کنٹرول ہے جس پر فلسطینی اتھارٹی کا کوئی زیادہ عمل دخل نہیں۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ کی پٹی کی بجلی میں کمی علاقے دو ملین افراد کو توانائی کے سنگین بحران سے دوچار کرنے کا موجب بن سکتی ہے۔

غزہ کی پٹی کا علاقہ 2006ء سے اسرائیلی ناکہ بندی کی زد میں ہے۔ صہیونی ریاست 2008ء سے 2014ء تک غزہ پر تین بار جنگ بھی مسلط کر چکا ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت نے غزہ کی پٹی کو روزانہ صرف 45 منٹ بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی فیصلے سے قبل بھی غزہ کی پٹی میں بجلی کے بدترین بحران کا سامنا ہے اور 24 گھنٹوں میں زیادہ سے زیادہ تین یا چار گھنٹے بجلی آتی ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے کابینہ کےفیصلے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ کابینہ اور داخلی سلامتی کے وزیر کے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

قبل ازیں اسرائیل کے عبرانی اخبار’ہارٹز‘ نے صہیونی حکومت کے ایک سینیر عہدیدار کے حوالے سے بتایا تھا کہ کابینہ نے فوج کی ہدایت پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی وجہ سے غزہ کی پٹی میں محاصرے میں نرمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیلی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ کی پٹی کی بجلی کی سپلائی میں کمی کرنے کا فیصلہ فلسطینی اتھارٹی کے مطالبے پر کیا گیا ہے۔ حال ہی میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے سرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی کو فراہم کردہ بجلی کی مقدار کم کردے کیونکہ فلسطینی اتھارٹی غزہ کی پٹی کی طرف سےبجلی کے بلات ادا نہیں کرسکتی۔

اخباری رپورٹ کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف جنرل گیڈی آئزن کوٹ، انٹیلی جنس چیف ہرٹز ھلیوی اور اسرائیلی رابطہ کار بولی مرڈخائے نے غزہ کی پٹی کی معاشی حالت کو انتہائی المناک قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ کی پٹی میں بجلی کے بحران کے حل کے لیے ان کے پاس کوئی آپشن نہیں۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ کو بجلی کی سپلائی کم کر دے۔

فلسطینی اتھارٹی اور حماس انتظامیہ کی طرف سے غزہ کی پٹی کو توانائی کے بحران سے نکالنے کے لیے رابطوں کی متعدد بار کوشش کی گئی تھی تاہم ان کے نتائج سامنے نہیں آئے۔