.

اسلامی تہذیب نہ ہوتی تو ارسطو اور سقراط بھی متعارف نہ ہوتے: الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ "سعودی عرب اس وقت دنیا کے سامنے تعلیم ، رواداری اور دوسروں کو قبول کرنے کی اہمیت باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے.. اور یہ معاشرے کو روشن کرنے کا راستہ ہے"۔

الجبیر نے یہ بات جرمنی کے دارالحکومت برلن میں اپنے ایک جامع لیکچر کے دوران مذہبِ اسلام اور تہذیب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "تہذیب کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ وہ رواداری پر مبنی اور دوسروں کے حوالے سے کشادگی کی حامل ہو"۔ انہوں نے واضح کیا کہ "جب اسلامی اور عرب دنیا پر تاریکی نے ڈیرہ ڈالا تو دنیا نے جان کاری ، علم ، جِدّت اور تخیلقی سوچ کو کھو دیا۔ اس کی سزا کے طور پر ہم دوسروں کو قبول کرنے سے محروم ہو گئے اور تہذیب جمود کا شکار ہو گئی"۔

عادل الجبیر نے باور کرایا کہ "اگر اسلامی تہذیب نہ ہوتی تو آج کی دنیا کے سامنے ارسطو اور سقراط کی ثقافت کو بیان کرنے والے مؤرخ بھی نہ ہوتے.. اور اگر عرب تہذیب کا وجود نہ ہوتا تو مشرق کبھی بھی اس طرح سے مغرب کے ساتھ مربوط نہ ہوتا"۔

الجبیر نے واضح کیا کہ سعودی عرب نے چند برس قبل بین المذاہب مکالمے کے مرکز کو متعارف کرایا تھا۔ اس کا مقصد مذاہب کے درمیان مشترکہ امور کو جاننا تھا۔ آخرکار یہ بات سامنے آئی کہ تمام ہی مذاہب ہمدردی ، غم خواری ، محبت ، رواداری اور امن کی تائید کرتے ہیں اور بے قصور افراد کے قتل کی مذمت کرتے ہیں۔

اپنے لیکچر کے اختتام پر الجبیر کا کہنا تھا کہ " تشدد کو قبول کرنے والے عقائد اور نظریات کہیں نہیں پائے جاتے"۔