.

عراق : زہر آلود کھانا کھانے سے 800 افراد متاثر،200 کی حالت غیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں بے گھر ہونے والے شہریوں کے ایک کیمپ میں ایک خیراتی تنظیم کی جانب سے تقسیم کیے گئے افطار کے آلودہ کھانے سے سیکڑوں افراد متاثر ہوئے ہیں اور ان میں دو سو کی حالت غیر ہوگئی ہے۔

اربیل کے گورنر نواز ہادی کے مطابق موصل کے مشرق میں واقع بے گھر افراد کے ایک کیمپ حسن شام میں افطار کا زہرآلود کھانا کھانے سے شدید علیل دو سو فراد اربیل کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔یہ کیمپ موصل اور اربیل کے درمیان شاہراہ پر واقع قصبے الخازر میں قائم کیا گیا ہے اور یہاں چھے ہزار سے زیادہ افراد رہ رہے ہیں۔

عراق کی وزارت صحت کے ترجمان سیف البدر نے بتایا ہے کہ سوموار کی شب روزہ افطاری کے بعد خراب کھانا کھانے سے کل سات سو باون افراد متاثر ہوئے ہیں اور ایک عورت اور ایک بچے کی موت واقع ہوگئی ہے لیکن بعد میں عراقی میڈیا نے ان دونوں ہلاکتوں کی اطلاع کی تصدیق نہیں کی ہے اور اس کو افواہ قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ اور عراقی حکام کے مطابق زہر آلود کھانا کھانے والے افراد کو تھوڑی دیر کے بعد قے آنے لگی اور پیٹ میں درد شروع ہوگیا تھا۔ پھران میں سے بعض کی حالت غیر ہوگئی تھی اور انھیں ایمبولینس گاڑیوں کے ذریعے اربیل منتقل کردیا گیا تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کھانے میں زہر کے حقیقی ذریعے کا مزید اور مکمل تحقیقات کے بعد ہی پتا چل سکے گا۔العربیہ کے ذرائع کے مطابق کھانا کردستان کے دارالحکومت اربیل میں واقع ایک ریستوراں سے تیار کرایا گیا تھا اور ایک خیراتی تنظیم کی جانب سے حسن شام کیمپ کے مکینوں میں کھانے کے دو ہزار پیکٹ تقسیم کیے گئے تھے۔ عراقی پولیس اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے اور اس واقعے سے تعلق کے الزام میں سات مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان میں اس ریستوراں کا مالک بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ موصل میں داعش کے خلاف اکتوبر سے جاری لڑائی کے دوران میں آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر موصل کے نواح میں قائم گنجان آباد تیرہ کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔اقوام متحدہ کا پناہ گزینوں کا ادارہ عراقی حکومت اور دوسرے امدادی اداروں کے ساتھ مل کر ان کیمپوں کا انتظام کررہا ہے اور مکینوں کو خوراک اور ادویہ مہیا کررہا ہے۔

اس ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ زہریلا کھانا کھانے سے شدید متاثر ہونے والے دو سو افراد اربیل کے تین اسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور باقی چھے سو افراد کو کیمپ ہی میں طبی امداد مہیا کی گئی ہے۔ اس واقعے کے بعد سے کیمپ میں مکینوں کو صاف پانی مہیا کیا جارہا ہے۔