.

یمن : صنعاء میں بچے "موت کے کھلونوں" سے کھیل رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عید الفطر سے دو ہفتے قبل یمنی دارالحکومت صنعاء کے بازار آتش بازی کے سامان اور پلاسٹک کی کلاشنکوفوں ، پستولوں اور بموں سے بھرنا شروع ہو گئے ہیں جو بچوں میں خاصے مقبول ہیں۔

2015 میں حوثی باغیوں کی جانب سے آئینی حکومت کا تختہ الٹے جانے سے قبل یمن کی سابقہ حکومتیں بازاروں میں آتش بازی کے سامان اور دیگر خطرناک کھلونوں کا داخلہ روکنے کے واسطے سخت اقدامات کرتی رہی ہیں۔

تاہم باغیوں کے دور میں صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ باغیوں کی پشت پناہی کے سبب اسمگلنگ مافیا نے صنعاء اور ملیشیاؤں کے زیر قبضہ دیگر صوبوں میں بازاروں کو ہر طرح کی ممنوعہ اشیاء سے بھر دیا جن میں آتش بازی کا سامان اور بچوں کے لیے خطرناک کھلونے شامل ہیں۔

بچوں کے لیے خطرناک کھلونوں میں اصلی ہتھیار سے ملتی جلتی لیزر گن بھی ہے۔ اس کھیل میں مخالف فریق کی آنکھوں اور دیگر اعضاء کو "منکے" سے نشانہ بنانے والا جیت جاتا ہے۔

اس کے علاوہ مقامی طور پر "الطماش" کے نام سے معروف آتشی کھیل کا المیہ بھی جاری ہے۔ اس میں کاغذ کے موٹے رول کے اندر بارودی مواد بھرا ہوتا ہے جس میں سے ایک تار باہر آ رہی ہوتی ہے۔ اس تار کو جلایا جائے تو زور دار آواز کے ساتھ دھماکا ہوتا ہے۔ یہ کھیل کئی مرتبہ بچوں کو بڑی حد تک نقصان پہنچا دیتا ہے۔

اس حوالے سے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے سماجی محقق محمد سعید کا کہنا تھا کہ "انتہائی افسوس کی بات ہے کہ باغی ملیشیاؤں کی کارستانیوں نے بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور یہ بچے روایتی "پلے اسٹیشن" کے گیمز ، ڈِنکی کار اور موبائل فون پر کلاشنکوف کے کھلونے اور آتشی مواد سے متعلق کھیلوں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ کچھ عرصے سے یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ بچے عید اور دیگر مواقع پر عسکری وردیوں اور ملیشیاؤں کے عناصر کی وردیوں میں ملبوس ہوتے ہیں۔ اس سے قبل بچوں میں سفید یا رنگین عرب لباس پہننے کا شوق نظر آتا تھا۔

محمد سعید کے مطابق ملیشیاؤں کی جانب سے پیدا کردہ جنگی حالات نے کم سِن بچوں کے اندر پس ماندہ سوچ کو جنم دیا ہے۔ بچے اب تشدد اور ہیبت کے رجحانات سے بھرپور لڑائی کے کھیلوں کی طرف میلان رکھتے ہیں۔ حوثیوں کے نزدیک یہ بچوں کو اس امر پر راغب کرنے کا مثالی طریقہ ہے کہ وہ اسکول کی کلاسوں کے سامنے صف بنانے کے بجائے لڑائی کے محاذوں پر مورچوں کے پیچھے کھڑے ہوں۔