.

جنیوا میں شام امن مذاکرات جولائی میں بحال ہوسکتے ہیں: عالمی ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی میستورا نے کہا ہے کہ جنیوا میں شام امن مذاکرات کا نیا دور آیندہ ماہ کے اوائل میں شروع ہوسکتا ہے۔

اسٹافن ڈی میستورا نے ناروے میں ایک کانفرنس کے موقع پر صحافیوں کو بتایا ہے کہ شام میں گذشتہ چھے سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے رمضان کے اختتام پر نئے مذاکرات شروع ہونے والے تھے لیکن ان کو موخر کردیا گیا ہے اور اب یہ ہیمبرگ میں سات اور آٹھ جولائی کو جی 20 کے سربراہ اجلاس سے قبل جولائی کے اوائل میں کسی وقت ہوسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایلچی کی ثالثی میں جنیوا میں شام امن مذاکرات کے متعدد ادوار ہوچکے ہیں لیکن ان میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔جنیوا میں مذاکراتی عمل کی ناکامی کے بعد قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شامی حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان روس ، ایران اور ترکی کی ثالثی میں مذاکرات کاایک متوازی ڈول ڈالا گیا تھا ۔

آستانہ میں مئی میں روس ،ترکی اور ایران کے درمیان شام میں محفوظ علاقوں کے قیام کے لیے ایک سمجھوتا طے پا یاتھا جبکہ شام کی مسلح حزب اختلاف کے وفد نے ان مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا تھااور صدر بشارالاسد کی حکومت سے باغی گروپوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بمباری روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ابھی تک شام میں محفوظ علاقوں کے قیام کے لیے ابھی تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

تاہم ڈی میستورا کا کہنا تھا کہ آستانہ میں مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ہمیں امید ہے کہ آستانہ میں جو کچھ ہوا ہے ،اس کو مکمل جنگ بندی تک توسیع دی جاسکتی ہے۔