.

خامنہ ای نے روحانی کو ایرانی معاشرے کی "تقسیم" سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای نے ضمنی طور پر صدر حسن روحانی کو ایرانی معاشرے کے ٹُوٹنے سے خبردار کیا ہے۔ ان کا اشارہ مرشد اعلی کے حمایت یافتہ دائیں بازو کے سخت گیر گروپوں کے مقابل روحانی کے گرد موجود اصلاح پسند اور معتدل عناصر کی جانب تھا۔

اصلاح پسندوں کے خیال میں یہ بیان اُن تنبیہات سے ملتا جلتا ہے جو ایرانی انقلاب کے سرخیل خمینی نے پہلے منتخب صدر ابو الحسن بنی صدر کو کی تھیں۔ بنی صدر کو ولایت فقیہ کے نظام کے سربراہ کے ساتھ اختلافات کی پاداش میں 1980ء میں سبک دوش کر دیا گیا تھا۔ وہ چار دہائیوں سے پیرس میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق خامنہ ای نے پیر کے روز ملکی انتظامیہ کے اعلی حکام اور سینئر ایرانی عہدے داروں کا استقبال کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ "دو قُطبوں کی تلاش" اور "معاشرے کی دو حصّوں میں تقسیم" ایک خطرناک اور ملکی مفادات کے لیے نقصان دہ تجربہ ہے۔

ایرانی مرشد اعلی نے مطالبہ کیا کہ "دشمن کے ساتھ حدود کو واضح کیا جائے" جو قومی وحدت کے لیے بنیاد فراہم کرے۔ خامنہ ای نے نیوکلیئر معاہدہ کرنے والے مذاکرات کاروں پر الزام عائد کیا کہ وہ دوسرے فریق کی بات کا اعتبار کرتے ہوئے دست بردار ہوئے جس کا نتیجہ یہ آیا کہ دشمن اب اُن کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

اختلافات میں شدت

حالیہ عرصے میں بالخصوص گزشتہ ماہ صدارتی انتخابات میں روحانی کے دوسری مرتبہ کامیاب ہونے کے بعد ایرانی مرشد اعلی اور حکومت کے سربراہ کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔

حسن روحانی نے یونیسکو کے تعلیمی پروگرام 2030ء کو روکے جانے کے فیصلے کی بھی سخت مخالفت کی۔ اس پروگرام کا مقصد تمام لوگوں کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ ایران میں متشدد عناصر کا موقف ہے کہ یہ پروگرام خمینی کے انقلاب کی اقدار کے لیے بڑا خطرہ ہے کیوں کہ اس کے ذریعے باسج ملیشیا کو طلبہ کی بھرتی سے روکے جانے کے علاوہ تعلیم کے میدان میں مردوں اور خواتین کے لیے برابری اختیار کی جائے گی اور انسانی حقوق اور آزادی کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے گا۔

کچھ عرصہ قبل ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای نے 1988ء میں سیاسی قیدیوں کے خلاف سزائے موت کی اجتماعی کارروائی کا دفاع کیا تھا۔ یہ موقف روحانی کے اُس بیان کے جواب میں سامنے آیا تھا جس میں ایرانی صدر نے ابراہیم رئیسی پر الزام عائد کیا کہ وہ گزشتہ 38 برسوں کے دوران لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارتے رہے۔ روحانی کا اشارہ رئیسی کے ایرانی عدلیہ میں اعلی منصبوں پر رہتے ہوئے ادا کیے جانے والے کردار کی جانب تھا۔

خود کو دور رکھنے کی پالیسی

مبصرین کے نزدیک روحانی خود کو ایرانی نظام کے قتلِ عام اور اس کی خون ریزی سے بھری تاریخ سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح وہ سخت گیروں کی جانب سے مغرب کے ساتھ تصادم کے خطاب سے بھی اپنا دامن بچانا چاہتے ہیں۔ اگرچہ روحانی نے 1979ء کے انقلاب کے بعد سے ملک میں کئی اعلی سکیورٹی اور سیاسی منصب سنبھالے اور ان کی حکومت کے وزیر انصاف مصطفی پور محمدی.. ماضی میں اجتماعی سزائے موت سے متعلق "ڈیتھ کمیشن" کے رکن رہ چکے ہیں۔

ایرانی صدر ملک کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی سے باہر لانے کے لیے مذاکرات اور مغربی دنیا کے لیے کشادگی کے راستے پر گامزن ہیں۔ اس طرح کی بھی بات سامنے آ رہی ہے کہ روحانی خطے کے ممالک کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے ایک نیا منصوبہ رکھتے ہیں۔ تاہم پہلی مدت صدارت کے 4 برسوں کے دوران اپنے نعروں اور وعدوں کو یقینی نہ بنانے کے سبب ان کی کوششوں کے لیے سپورٹ کا امکان کم نظر آتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ نیوکلیئر معاہدہ جو روحانی کی اکلوتی کامیابی شمار کی جاتی ہے.. ایران کی جانب سے اس کی شقوں کی پاسداری نہ کرنے کے سبب یہ معاہدہ ہوا میں اُڑتے پَر جیسا ہو گیا ہے۔ ان میں خاص طور پر تہران کے میزائل پروگرام ، انسانی حقوق کی پامالی ، ایران کی مسلسل فوجی مداخلت اور خطے میں دہشت گردی کی سپورٹ سے متعلق شِقیں شامل ہیں۔