.

عراقی فورسز کا مغربی موصل کے علاقے باب سنجار پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فورسز نے شمالی شہر موصل کے مغربی حصے میں واقع ایک اور علاقے پر داعش سے لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا ہے۔

سرکاری عراقیہ نیوز ٹی وی نے موصل میں داعش کے خلاف کارروائی کے نگران اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عبدالعامر یاراللہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’’ فوج کے نویں ڈویژن کے یونٹوں نے موصل شہر کے مغربی حصے میں واقع علاقے باب سنجار کو آزاد کرا لیا ہے اور اب وہ ایک اور علاقے الفاروق میں پہنچ گئے ہیں‘‘۔

مغربی موصل میں داعش کے جنگجو اب اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں اور انھوں نے اپنے مرکز جامع مسجد النوری کی جانب جانے والے تمام راستوں اور گلیوں کی ناکا بندی کررکھی ہے اور وہ عراقی فورسز کے ساتھ آخری معرکے کے لیے تیار ہیں۔اس وقت اس مسجد اور اس کے آس پاس کے تین علاقے ہی داعش کے زیر قبضہ رہ گئے ہیں۔ قبل ازیں بعض عراقی کمانڈروں کا کہنا تھا کہ وہ رمضان کے دوران میں داعش کے اس مضبوط گڑھ پر قبضہ کر لیں گے۔

عراقی فورسز گذشتہ آٹھ ماہ سے موصل کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے لڑ رہی ہیں اور ان کی یہ کارروائی عراقی کمانڈروں اور حکام کے دعووں کے برعکس کافی طول پکڑ گئی ہے۔ عراقی فورسز نے ایک سو دن کی لڑائی کے بعد جنوری میں موصل کے مشرقی حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد 19 فروری کو دریائے دجلہ کے مغربی کنارے میں واقع شہر کے حصے کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

داعش کے جنگجو مبینہ طور پر موصل کے گنجان آباد قدیم حصے میں رہ جانے والے خاندانوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے عراقی فورسز کو شہر کی تنگ وتاریک گلیوں میں زمینی پیش قدمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ داعش کے جنگجو خودکش بم دھماکوں ، کھلونا بموں اور بارودی سرنگوں کے ذریعے عراقی فورسز کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔