بحرین کے خلاف سازش کرنے والا قطری ’’ امیر ‘‘ کون ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بحرین کے حکام نے جمعہ کو ایک ویڈیو جاری کی ہے۔اس میں امیرِ قطر کے خصوصی مشیر حمد بن خلیفہ بن عبداللہ العطیہ کو بحرینی حزب اختلاف کے ایک لیڈر حسن علی محمد جمعہ سلطان سے ٹیلی فون پر خطرناک گفتگو کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔

اس ریکارڈنگ میں ان دونوں صاحبان کو بحرین میں طوائف الملوکی کے بیج بونے کی سازش کے تانے بانے بنتے سنا جا سکتا ہے۔اس میں گفتگو کرنے والے حمد بن خلیفہ العطیہ کون ہیں؟ان صاحب کو قطری حکومت کا ماسٹر مائنڈ اور دایاں بازو قرار دیا جاتا ہے اور وہ موجودہ امیر شیخ تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔

قطری انھیں ایک ایسا ’’ امیر‘‘ قرار دیتے ہیں جن کی کسی نے بیعت نہیں کی ہے۔حمد بن خلیفہ العطیہ وزیر بننے سے قبل امیر قطر کے خصوصی مشیر رہے تھے اور ان کا عہدہ وزیر کے برابر تھا۔انھوں جون 2013ء میں ایک خصوصی حکم نامے کے ذریعے مشیر خصوصی کے منصب پر فائز کیا گیا تھا۔

بظاہر انھیں یہ منصب ان کی ایک منصوبے پر عمل درآمد کے لیے شاندار کارکردگی کے اعتراف کے طور پر سونپا گیا تھا۔وہ تاجروں اور دکانداروں کو اپنی دکانیں بازار وقف کے لیے بیچنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ان تاجروں کو یہ جھانسا دیا گیا تھا کہ اس بازار وقف کو ایک ثقافتی ادارے میں تبدیل کیا جائے گا۔

لیکن اس کے بجائے حمد العطیہ نے ان دکانوں کو دوبارہ بھاری قیمت پر ان تاجروں ہی کو لیز پر دے دیا تھا ۔اس طرح قومی خزانے سے ان دکان داروں اور تاجروں کو جو رقم ادا کی گئی تھی،اس سے زیادہ ان سے واپس لے لی گئی تھی۔

علاقائی ، عرب اور بین الاقوامی سطح پر بھی حمد العطیہ اپنے صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے رہے ہیں ۔ انھوں نے خلیجی ممالک اور قطر کے درمیان 2013ء مںں ایک بڑا بحران پیدا کردیا تھا اور اس کے نتیجے میں خلیجی ممالک نے قطر سے ایک سمجھوتے پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔اس کے تحت قطر کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے داخلی امور میں مداخلت سے باز رہے۔

لبنانی میڈیا اداروں کی متعدد خبری رپورٹس میں یہ انکا ف کیا گیا ہے کہ مشیر حمد العطیہ کے بھائی عبدالعزیز بن خلیفہ العطیہ شام میں لڑنے والے دہشت گرد گروپوں کی براہ راست مالی معاونت کرتے رہے ہیں۔ یہ گروپ انسانی امدادی تنظیموں کے بہروپ میں جنگ زدہ ملک میں لڑ رہے ہیں۔

انھوں نے ’’معہد اہل الشام‘‘ کے نام سے خلیجی ممالک میں عطیات جمع کرنے کے لیے ایک مہم بھی برپا کی تھی۔اس کے ذریعے اکٹھی کی جانے والی رقوم کو شام میں دہشت گردوں کو مسلح کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ان میں سے بہت سے ماضی میں القاعدہ سے وابستہ رہنے والے النصرہ محاذ کے ارکان بھی تھے۔ اس تنظیم نے اگست 2013ء میں قطری شہریوں سے شام میں جنگجوؤں کے لیے عطیات دینے اور رقوم بھیجنے کی اپیل کی تھی تاکہ اس سے ہتھیار خرید کیے جاسکیں۔

قطر نے لبنان میں زیر حراست عبدالعزیز آل خلیفہ کی رہائی کے لیے مداخلت کی تھی اور یہ دھمکی دی تھی کہ اگر انھیں رہا نہیں کیا جاتا تو پھر قطر میں روزگار کے سلسلے میں مقیم کم وبیش تیس ہزار لبنانیوں کو بے دخل کردیا جائے گا۔عبدالعزیز بن خلیفہ العطیہ پر دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے الزام عاید کیا گیا تھا۔

بعد میں بیروت کی ایک عدالت نے انھیں ان کی عدم موجودگی میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے رقوم مہیا کرنے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں