حماس اور عوامی محاذ نے بیت المقدس حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی تنظیموں حماس اور عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے ہفتے کے روز دو علاحدہ بیانوں میں اعلان کیا ہے کہ بیت المقدس میں جمعے کی شب کارروائی کرنے والے حملہ آوروں کا تعلق مشترکہ طور پر ان دونوں تنظیموں سے ہے۔ کارروائی میں اسرائیلی پولیس کی ایک خاتون اہل کار ہلاک ہو گئی۔

حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے ایک بیان میں کہا کہ " کارروائی میں عوامی محاذ کے دو اور حماس کے ایک مزاحمت کار نے حصہ لیا"۔ حماس کے مطابق داعش کا اس کارروائی کو اپنی جانب منسوب کرنا درست نہیں۔

دوسری جانب عوامی محاذ نے جمعے کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں "وعد البراق" آپریشن کرنے والے مزاحمت کاروں کی دلیر کو خراج تحسین پیش کیا اور باور کرایا کہ مزاحمت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

اس سے قبل داعش تنظیم نے بیت المقدس میں ایک اسرائیلی خاتون پولیس اہل کار کو چاقو کے واروں سے قتل کرنے کی ذمے داری قبول کی تھی۔ کارروائی میں شریک تینوں فلسطینی حملہ آوروں کو اسرائیلی پولیس نے ہلاک کر ڈالا تھا۔ تنظیم نے اسرائیل کو مزید حملوں کی دھمکی بھی دی۔

بعد ازاں داعش نے ایک بیان میں بتایا کہ کارروائی کرنے والے حملہ آوروں کے نام ابو البراء المقدسی ، ابو حسن المقدسی اور ابو رباح المقدسی ہیں۔

ادھر فلسطینی وزارت صحت نے جمعے کی شب مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس کے ہاتھوں 3 فلسطینی شہریوں کی ہلاکت کا اعلان کیا۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق مذکورہ فلسطینیوں میں سے دو نے پولیس کے ایک گروپ پر فائرنگ کی جس کا جواب فائرنگ سے دیا گیا جب کہ تیسرے فلسطینی نے ہلاک ہونے سے قبل اسرائیلی خاتون پولیس اہل کار پر چاقوؤں سے وار کیے۔

ڈاکٹروں نے اس کارروائی میں 4 دیگر افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

میڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق فلسطینی اراضی میں اکتوبر 2015 سے اسرائیلی قابض حکام کے خلاف مزاحمتی تحریک دیکھی جا رہی ہے۔ اس دوران 272 فلسطینی ، 41 اسرائیلی، 2 امریکی ، 2 اردنی ، ایک اریٹیری ، ایک سوڈانی اور ایک برطانوی شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں