.

اسرائیل : حملے کے بعد فلسطینیوں کے لیے رمضان میں خیرسگالی کے اقدامات واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک اسرائیلی خاتون اہلکار کی چاقو حملے میں ہلاکت کے بعد رمضان کے دوران میں فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں آنے کے لیے دی گئی اجازت واپس لے لی ہے۔

نیتن یاہو نے اتوار کے روز کہا ہے کہ حملہ آوروں کے مکانوں کو مسمار کرنے کی تیاری کی جارہی ہے اور مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم حصے میں سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ چاقووں اور ایک خود مختار ہتھیار سے مسلح تین فلسطینیوں نے جمعہ کی شب بیک وقت دو جگہوں پر حملے کیے تھے۔ایک حملے میں اسرائیلی پولیس کی اسٹاف سارجنٹ میجر حدث ملکہ ہلاک ہوگئی تھی۔اس کی عمر 23 سال تھی۔

نیتن یاہو اسرائیلی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے موقع پرفلسطینی صدر محمود عباس پر برس پڑے ہیں اور انھیں اس حملے کی مذمت نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل نے قبل ازیں خیر سگالی کے طور پر رمضان میں فلسطینیوں کے لیے بعض اقدامات کا اعلان کیا تھا اور غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک سو فلسطینیوں کو مقبوضہ بیت المقدس میں مسجدِ اقصیٰ میں نمازوں کی ادائی کے لیے آنے کی اجازت دی تھی۔