.

ایران میں نظام کی تبدیلی کا وقت آ چکا ہے: جان مکین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے معروف سینیٹر اور امریکی سینیٹ میں مسلح افواج کی کمیٹی کے سربراہ جان مکین کا کہنا ہے کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی عوام کی امیدوں کو پورا کرنے کے واسطے ایران میں نظام کو تبدیل کیا جائے"۔ انہوں نے خطے میں تہران کی مداخلت اور دہشت گردی کے لیے اس کی سپورٹ کی سخت مذمت کی۔

مکین کا یہ بیان ہفتے کی شام ایران کے حوالے سے امریکی کانگریس کے اجلاس کے بعد سامنے آیا۔ اجلاس میں سابق شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی نے بھی شرکت کی۔

ایرانی اپوزیشن کی ایک ویب سائٹ کے مطابق مکین نے زور دے کر کہا کہ "نظام کی تبدیلی کا معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مؤثر جمہوریت اور ایران میں ایک آزاد اور کشادہ معاشرے کو یقینی بنایا جائے"۔

مکین نے سابق انتظامیہ کے ایرانی نظام کے ساتھ نمٹنے کے طریقہ کار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ " اوباما انتظامیہ جمہوریت اور آزادی کا دفاع کرنے میں ناکام رہی"۔

جان مکین کا یہ بیان امریکی وزیر خارجہ کے اس اعلان کے چند روز بعد سامنے آیا جس میں ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ "ایران کے حوالے سے امریکا کی پالیسی کا بنیادی محور یہ ہے کہ اس ملک میں اقتدار کی پر امن تبدیلی کے واسطے اندرونی سیاسی طاقتوں کو سپورٹ کیا جائے"۔

گزشتہ بدھ کو کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کانگریس کی جانب سے "غیر نیوکلیئر" پابندیوں کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ اس کا مقصد دہشت گردی کی سپورٹ، متنازع میزائل پروگرام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھنے کے سبب تہران پر پابندیاں عائد کرنا ہے۔

یہ بیانات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی ایران کے حوالے سے نئی پالیسی کی عکاسی کر رہے ہیں۔ یہ موقف سابق صدر اوباما کی پالیسیوں سے یکسر مختلف ہے جن کے نتیجے میں خطے میں تہران کے غلبے ، توسیع اور رسوخ کے علاوہ مشرق وسطی میں دہشت گردی کا پھیلاؤ ، فرقہ وارانہ جنگیں اور امن و امان کا عدم استحکام سامنے آیا۔