.

بحرین کے خلاف ’سازش‘ کو سند جواز دینے کی قطری کوشش!

ٹیلیفون کال مصالحتی کوششوں کا حصہ تھی: دوحا کا موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست قطر نے امیر قطر کے مشیر حمد بن خلیفہ العطیہ اور بحرین کے باغی لیڈر اور الوفاق پارٹی کے سرکردہ رہ نما حسن علی جمعہ کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے اسکینڈل کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ قطر کا کہنا ہے کہ ٹیلیفون کال میں بحرین کے داخلی امور میں مداخلت کی کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قطری وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حسن علی جمعہ سے ٹیلیفون پر مشیر قطر کی بات چیت مصالحتی کوششوں کا حصہ تھی۔ یہ کال سنہ 2011ء کو بحرین میں بدامنی کے واقعات کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی اور اس وقت بحرینی حکومت کو اس کا بہ خوبی علم تھا۔

خیال رہے کہ دو روز قبل خلیجی مملکت بحرین نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں مشیر قطر حمد بن خلیفہ بن عبداللہ العطیہ اور بحرین کے باغی رہ نما حسن علی محمد جمعہ سلطان کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلیفون کال کی ریکاڈنگ شامل کی گئی تھی۔ اس فون کال کے دوران مشیر قطر اور جمعہ سلطان کو بحرین کے خلاف سازش کی منصوبہ بندی اور انتشار پھیلانے پر بات کرتے سنا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں یہ فون کال قطر کے الجزیرہ ٹی وی پر بھی نشر کی گئی تھی۔

لیک ہونے والی چار آڈیو فون کالز میں معلومات کے تبادلے اور ذرائع کے ناموں کی نشاندہی جیسے امور میں تعاون پر بات چیت کی گئی تھی۔ پہلی ٹیلیفونک کال میں امیر قطر کے معاون خصوصی حمد العطیہ حسن سلطان کی کال موصول کرتے ہیں اور اسے مشیر قطر کو ملاتے ہیں۔

اس ٹیلیفونک گفتگو میں علی جمعہ سلطان نے بحرین کے دفاع کے لیے آئی عرب فوج ’درع الجزیرہ‘ [جزیرے کی ڈھال] کو ’قابض فوج‘ قرار دیا اور قطر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فوج میں شامل نہ ہو۔

اس کے جواب میں حمد العطیہ کا کہنا تھا کہ ’درع الجزیرہ‘ میں قطری سپاہی اور افسران شامل نہیں۔ دوحہ کو بحرین کے دفاع میں منامہ میں فوج بھجوانے پر تحفظات ہیں تاہم اس فوج میں دو قطری فوجی افسران محض مبصر کے طور پر موجود ہیں۔

بحرینی اپوزیشن رہ نما نے قطر کی جانب سے درع الجزیرہ میں شمولیت کی حساسیت پر دوحہ کے کردار کو سراہا۔ اس موقع پر حمد العطیہ کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کو بحرین میں فوج داخل کرنے پر تحفظات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری فوج اس آپریشن میں شامل نہیں۔

ٹیلیفونک گفتگو میں کویت کے موقف پر بھی بات چیت کی گئی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کویتی اپوزیشن ’درع الجزیرہ‘ میں کویتی فوج کی شمولیت پر معترض ہے۔

اس دوران حمد العطیہ نے بحرینی اپوزیشن رہ نما پر زور دیا کہ وہ گراونڈ میں ہونے والی تمام پیش رفت کے بارے میں انہیں آگاہ کریں۔ العطیہ نے کہا کہ ان کا بحرین کا دورہ متوقع ہے۔ اگر وہ منامہ آئے تو ان سے ملاقات بھی کریں گے۔