.

شیخ شعراوی اور سعودی شیخ المشائخ نے لیلہ القدر کا تعین کس طرح کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معروف مصری مبلغ شیخ محمد متولی الشعراوی کی ایک وڈیو میں شبِ قدر کے تعین سے متعلق تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ یاد رہے کہ ہفتے کے روز شیخ شعراوی کی وفات کو 19 برس پورے ہو گئے۔

وڈیو میں شیخ شعراوی نے بتایا کہ جب وہ مملکت سعودی عرب میں اسلامی شریعہ کے استاد کے طور پر کام کرتے تھے جو ایک روز اُن کے اور مصری اور سعودی علماء کے درمیان شبِ قدر کے تعین کے حوالے سے مباحثہ ہوا۔ اس حوالے سے مصری عالم شیخ ابراہیم العطیہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے شِب قدر کے حوالے سے تفسیرِ قرطبی میں 7 کے ہندسے کے بارے میں پڑھا ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے شبِ قدر کے حوالے سے سوال کیا۔ ابن عباس نے جواب دیا کہ "میرا گمان ہے کہ یہ رمضان کی 27 ویں شب ہے۔ اس لیے کہ اللہ عز و جل نے سات آسمان تخلیق کیے ، انسان کو سات مرحلوں میں پیدا کیا ، زندگی کے عناصر سات دفعہ میں نازل کیے۔ لہذا 7 کے ہندسے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول مبارک کہ اس رات کو آخری دس راتوں میں تلاش کرو.. اس کی بنیاد پر خیال کیا جاتا ہے کہ شبِ قدر 27 ویں شب ہو گی"۔

شیخ شعراوی کے مطابق اس موقع پر بعض علماء کا موقف تھا کہ 7 کے ہندسے کا یہ مطلب نہیں کہ شبِ قدر 27 ویں شب ہے اس لیے کہ اس میں 7 کے ساتھ 20 کا ہندسہ بھی شامل ہے۔ یہ بحث بنا کسی فائدے کے جاری رہی۔ شیخ شعراوی کے مطابق ایسے میں مصری عالم شیخ محمد ابو عارف نے جو اس وقت مجلس میں موجود تھے ہم سب سے کہا کہ چل کر حرم نبوی شریف میں دو رکعت نفل ادا کریں۔ اس طرح شیخ شعراوی کے اس قول کی تائید ہو گئی جو انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگر کسی معاملے میں الجھاؤ پیش آ جائے توحرم شریف میں دو رکعت نماز ادا کرنا چاہیے۔

شیخ شعراوی نے انکشاف کیا کہ اس رات سعودی عرب کے شیخ المشائخ اور نامور محقق جناب اسحاق عزوز بھی ان علماء سے ملاقات کرنے پہنچ گئے۔ انہوں نے علماء سے اس وقت حرم نبوی میں نماز کے لیے موجود ہونے کا سبب پوچھا تو علماء نے تمام معاملہ ان کے سامنے پیش کر دیا۔ اس طرح پھر سے یہ مباحثہ شروع ہو گیا۔ اس دوران ایک شخص جس کو وہ لوگ نہیں جانتے تھے اور وہ غالبا ان کے درمیان جاری بحث سن رہا تھا.. اچانک ان علماء کے درمیان آ گیا اور بولا : کیا رسول اللہ علیہ الصلات و السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ "اس رات کو رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کرو".. لہذا بیس روز کو چھوڑ کر اس کے بعد حساب کرو۔

شیخ شعراوی کہتے ہیں کہ "اس کے بعد ہم مذکورہ شخص کے غائب ہو جانے سے حیران رہ گئے۔ تاہم اس کی بات نے ہمیں پھر سے حساب کرنے پر مجبور کر دیا۔ ہم نے بیس کے بعد 7 کے ہندسے کا حساب لگایا تو اکائی کی بنیاد پر سب ہی کا اندازہ تھا کہ شبِ قدر 27 ویں شب ہے"۔