.

ایران نے "یونیسکو 2030" پروگرام پر عمل سے انکار کیوں کیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونسیکو کے اُس تعلیمی پروگرام "یونیسکو 2030" پر عمل درامد روک دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد سب تمام لوگوں کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ یہ فیصلہ مرشد اعلی اعلی خامنہ ای اور صدر حسن روحانی کے درمیان اس حوالے سے کئی ہفتے جاری رہنے والے اختلاف کے بعد سامنے آیا ہے۔

حکومت کے قریب شمار کی جانے والی ویب سائٹ "عصر ايران" کے مطابق تہران میں انقلابِ ثقافت کی سپریم کونسل کے ارکان نے روحانی کی موجودگی میں متفقہ طور پر یونیسکو 2030 پروگرام کے نفاذ کو روک دینے کا فیصلہ کیا۔

ایران میں سخت گیر حلقوں نے اقوام متحدہ کے اس پروگرام کے سبب حکومت کے خلاف احتجاج برپا کر دیا تھا۔ ان حلقوں کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام خمینی انقلاب کی اقدار کے لیے بڑا خطر ہے.. اس لیے کہ پروگرام باسج ملیشیاؤں کی جانب سے طلبہ کو بھرتی کرنے پر روک لگاتا ہے ، مرد اور عورت کے لیے تعلیمی مساوات اور تعلیمی نصابوں میں انسانی حقوق اور آزادی سے متعلق معاملات شامل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ میں سخت گیر گروپ سے تعلق رکھنے والے 151 ارکان نے ایرانی صدر حسن روحانی کو بھیجے گئے ایک خط میں مطالبہ کیا تھا کہ یونیسکو 2030 پروگرام پر عمل درامد روک دیا جائے۔ خط میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ کی جانب سے منظوری دیے جانے تک اس پروگرام پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا جب کہ مرشد اعلی علی خامنہ ای نے بھی اس کو منسوخ کرنے پر زور دیا۔

روحانی نے حالیہ صدارتی انتخابات سے قبل اپنے حامیوں سے خطاب کرتےہوئے کہا تھا کہ "تعلیمی پروگرام یونیسکو 2030 پر ایران کے قوانین اور ثقافت کے مطابق عمل درامد کیا جانا چاہیے"۔

دوسری جانب ایران میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے یونیسکو 2030 پر عمل روک دینے سے متعلق حکام کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔