.

شامی جیٹ مار گرائے جانے کے بعد روس کی امریکا سے رابطہ کاری معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے شام میں امریکا کے ساتھ کسی محاذ آرائی سے بچنے کے سلسلے میں سمجھوتے پر روابط معطل کردیے ہیں۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق اس نے یہ فیصلہ امریکی لڑاکا طیاروں کے حملے میں شامی حکومت کے ایک لڑاکا طیارے کی تباہی کے بعد کیا ہے۔

روس کے لڑاکا طیارے شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں جبکہ امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے بھی داعش کے خلاف فضائی مہم میں شریک ہیں۔ان دونوں ممالک کے درمیان شام کی فضائی حدود میں لڑاکا طیاروں کے درمیان کسی قسم کے تصادم سے بچنے کے لیے ایک سمجھوتا طے پایا تھا اور اس کے تحت وہ ایک دوسرے کو اپنی فضائی کارروائیوں کے بارے میں اطلاع دیتے رہتے ہیں۔

روسی وزارت دفاع نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس سمجھوتے کو معطل کررہی ہے ۔قبل ازیں امریکی فوج نے اتوار کو شامی فضائیہ کا ایک لڑاکا جیٹ مار گرانے کی تصدیق کی تھی۔اس طیارے نے مبینہ طور پر امریکا کی حمایت یافتہ فورسز کے نزدیک بمباری کی تھی۔

روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس کے نزدیک یہ واقعہ امریکا کی جانب سے اپنے ہی وعدوں کی جان بوجھ کر پاسداری نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔

شام میں روس اور امریکا جنگ کے متحارب فریقوں کی حمایت کررہے ہیں۔روس شامی صدر بشارالاسد کا حامی ومؤید ہے جبکہ امریکا کی قیادت میں اتحاد اعتدال پسند باغی گروپوں کی حمایت کررہا ہے ۔تاہم دونوں ممالک داعش کے خلاف جنگ کے معاملے میں متفق ہیں اور ان کے لڑاکا طیارے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں ۔اس وقت امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز داعش کے مضبوط گڑھ الرقہ کی جانب پیش قدمی کررہی ہیں۔