.

اولمرٹ کی یادداشتیں.. اسرائیلی سکیورٹی اور استغاثہ کے بیچ الزامات کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں سکیورٹی اداروں اور استغاثہ کے درمیان اس حوالے سے الزامات کا تبادلہ ہوا ہے کہ اُس پبلشنگ ادارے پر چھاپے کا حکم کس نے جاری کیا جو سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ کی یادداشتیں شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسرائیلی سرکاری استغاثہ نے اتوار کے روز جاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی روزنامے Yedioth Ahronoth کے پبلشنگ ہاؤس پر چھاپے کا فیصلہ اسرائیلی پولیس اور وزارت سکیورٹی کے ساتھ مشترکہ مشاورت کے دوران کیا گیا۔ بات چیت میں شریک سکیورٹی اداروں کا کہنا تھا کہ اولمرٹ کی جانب سے اپنی کتاب میں اِفشا کی جانے والی معلومات خطرناک نوعیت کے سکیورٹی نقصانات کا سبب بن سکتی ہیں۔ تاہم سکیورٹی ذرائع نے اس دعوے کی نفی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وزارت میں سکیورٹی کے ذمے دار کو پبلشنگ ہاؤس پر چھاپے کے بعد ہی اس کارروائی کا علم ہوا۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی استغاثہ ساز باز سے کام لے رہی ہے۔ سکیورٹی ذمے دار کو اس دھاوے کا علم ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہوا۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ " جس قانونی بحث کا حوالہ دیا گیا ہے وہ سکیورٹی ذمے دار کے نمائندے کے ساتھ ہوئی تھی۔ اس دوران کئی آپشن زیر بحث آءے اور کوئی متعین فیصلہ نہیں کیا گیا۔ لہذا وزارت سکیورٹی میں امن و امان کے ذمے دار نیر بن موشے کو یدیعوت احرونوت پبلشنگ ہاؤس پر چھاپے کا علم اس حوالے سے خبر کے شائع ہونے کے بعد ہی ہوا"۔

اسرائیلی استغاثہ نے واضح کیا کہ اس کے اہل کار پبلشنگ ہاؤس سے ضبط کیے جانے والے تحریری مواد کو نہیں دیکھیں گے۔ اسرائیلی پولیس پبلشنگ ہاؤس کے نمائندوں کی موجودگی میں لیپ ٹاپ میں محفوظ مواد میں سے صرف اولمرٹ کے معاملے سے متعلق معلومات نکالے گی جب کہ بقیہ مواد پبلشنگ ہاؤس کے نمائندوں کو واپس کر دیا جائے گا اور پولیس اس کی کوئی کاپی محفوظ نہیں کرے گی۔

اسرائیلی پولیس نے جمعرات کے روز مذکورہ پبلشنگ ہاؤس پر چھاپہ مارا تھا۔ یہ کارروائی ریاست کے اٹارنی جنرل شائے نیٹسان کی جانب سے معائنے کے فیصلے کے بعد کی گئی۔ کارروائی کا مقصد اُس خفیہ مواد کی تلاش ہے جس کے بارے میں شبہہ ہے کہ اولمرٹ نے اسے سکیورٹی ذمے دار کے معائنے کے بغیر ہی پبلشنگ ہاؤس کے حوالے کر دیا۔

ادھر ایہود اولمرٹ نے اپنے خلاف دعوؤں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا معاملہ سابق وزیراعظم ایہود باراک سے مختلف نہیں جنہوں نے اپنی شائع کردہ کتاب میں اسرائیل کے اقدامات کے متعلق تفصیلات بیان کیں۔ اس کے جواب میں اسرائیلی استغاثہ نے کہا کہ باراک گرفتار نہیں تھے۔ اولمرٹ نے مزید بتایا کہ انہوں نے جو کچھ تحریر کیا ہے متعلقہ عسکری حکام نے اس کی تصدیق کی۔ تاہم عسکری حکام نے پولیس کو آگاہ کیا ہے کہ اس نے کتاب کی دو فصلوں کی تصدیق نہیں کی۔

دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے اتوار کے روز بتایا کہ پبلشنگ ہاؤس پر چھاپے کی کارروائی استغاثہ کی ہدایت پر عمل میں آئی۔ پولیس نے مزید بتایا کہ استغاثہ نے ہی اس کو حکم دیا تھا کہ وہ اولمرٹ کی کتاب کے ان حصوں کو ضبط کرے جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ ان کو عسکری حکام کے حوالے نہیں کیا گیا۔

اسی سے متصل سیاق میں روزنامہ "يديعوت احرونوت" نے لکھا ہے کہ معسیاہو جیل میں اتوار کے روز رہائی کمیٹی کی طویل بحث کے بعد سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ اپنے کمرے میں واپس لوٹ آئے۔

مذکورہ کمیٹی کی جانب سے 29 جون کو یہ فیصلہ سامنے آئے گا کہ آیا اپنی قید کی دو تہائی مدت پوری کر لینے والے اولمرٹ کی جانب سے پے رول پر رہائی کی درخواست منظور کر لی گئی یا نہیں۔ درخواست منظور ہونے کی صورت میں توقع ہے کہ اولمرٹ کو دو ہفتوں کے دوران رہا کر دیا جائے گا۔ درخواست مسترد ہونے کی صورت میں سابق وزیر اعظم کو مئی 2018 تک جیل میں رکنا پڑے گا۔

ایہود اولمرٹ 2006 سے 2009 تک اسرائیلی وزیر اعظم رہے۔ وہ بیت المقدس کی میئر شپ کے دوران رشوت وصول کرنے کے الزام میں 18 ماہ قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔