.

باغیوں کے زیرِ قبضہ صنعاء میں گداگروں کی نئی اقسام !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغی ملیشیاؤں کے زیر قبضہ دارالحکومت صنعاء میں گداگری کے سوا کوئی چیز پھلتی پھلوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ بالخصوص رمضانِ مبارک میں شہر کی سڑکیں ، بازار اور مساجد گداگروں سے بھر گئیں ہیں۔

ماضی میں گداگروں کی تعداد سیکڑوں میں ہوتی تھی جو مساجد کے دروازوں اور ٹریفک سگنلوں جیسے چند ہی مقامات پر پائے جاتے تھے۔ تاہم اب ان کی تعداد ہزاروں میں ہو گئی ہے جس نے شاپنگ مالوں ، سپر مارکیٹوں ، ریستورانوں ، ہسپتالوں ، القات بوٹی کی فروخت کے بازاروں اور یہاں تک کہ چھوٹی دکانوں کو بھی بھر دیا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران گداگروں کی اکثریت پس ماندہ اور کمزور افراد پر مشتمل ہوتی تھی مگر اب اس لعنت کو پھیلانے والوں میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی شامل ہو گئی ہے جن پر غربت اور فاقے کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی.. بلکہ ان کے صاف کپڑوں اور حلیے سے دیکھنے والے کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ خوش حال گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان میں کوئی خود کو حجہ یا تعز یا جنگ سے متاثرہ کسی دوسرے صوبے میں بے گھر ہونے والے افراد میں سے ظاہر کر کے مدد طلب کرتا ہے جب کہ کوئی خود کے سرکاری ملازم ہونے کی تصدیق کرتا ہے جو حوثیوں کی جانب سے آٹھ ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے سبب لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو گیا اور اسے مالک مکان کی جانب سے کرائے کے بقایا جات ادا نہ کرنے کی صورت میں اہلِ خانہ سمیت گھر سے نکال دینے کی دھمکی بھی مل چکی ہے۔

سماجی محقق محمد سلطان نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "کئی صوبوں میں حوثی ملیشیاؤں کی جانب سے چھیڑی گئی جنگ کے نتیجے میں گداگری کی نئی قسم سامنے آئی ہے اور لوگ بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر کھانے کا سوال کرنے کے واسطے گھروں سے نکل آئے ہیں"۔ سلطان کے مطابق صنعاء کی سڑکوں پر گداگروں کی قطار خوف ناک معاشی حالات کی عکاسی کرتی ہے جہاں ہزاروں شہری اس جنگ کے سبب اپنے روزگار کے ذرائع سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ حالات خطے کی سطح پر غریب ترین ملک میں قحط واقع ہونے سے خبردار کر رہے ہیں۔

اینگلا فاؤنڈیشن فار ہیومن ڈیولپمنٹ کی چیئرپرسن ڈاکٹر اینگلا ابو اصبع کے مطابق یمنی معاشرے میں گداگری کا رحجان ملک کے تمام شہروں بالخصوص صنعاء میں پھیل چکا ہے.. اس حوالے سے تمام شہروں میں یہ منظر بارہا نظر آتا ہے کہ خواتین اپنے بچوں کو گود میں اٹھا کر سڑکوں پر بھیک مانگتی نظر آتی ہیں۔

صنعاء میں ہائر کونسل فار مَدر ہُڈ اینڈ چائلڈ ہُڈ اور یونیسف کی رپورٹوں کے مطابق یمنی دارالحکومت میں گداگری کرنے والے بچوں کی تعداد 7 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔