.

حزب اللہ نواز میڈیا قطر کا دفاع کیوں کررہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں حزب اللہ کے ملکیتی یا حامی میڈیا ، اس سے وابستہ اخبارات اور ٹی وی چینلوں المنار ، العالم (ایرانی چینل) الاخبار ، البنا اور الاحد نے قطر کے خلاف کسی قسم کا مواد شائع اور نشر کرنا ترک کردیا ہے اور اس کی پالیسی میں یہ تبدیلی تب آئی ہے جب سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر اور ایران میں آیت اللہ رجیم کے درمیان تعلقات کا انکشاف کیا تھا اور قطر سے تعلقات توڑ لیے تھے۔

ان تعلقات کا ایک نتیجہ ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی قطریوں سے خفیہ ملاقات کی صورت میں برآمد ہوا تھا۔انھوں نے عراق میں یرغمال بنائے گئے چھبیس قطریوں کی رہائی کے لیے کروڑوں ڈالرز مالیت کا ایک سمجھوتا طے کرایا تھا۔اس کے علاوہ انھوں نے شام میں باغیوں اور صدر بشارالاسد کی حکومت کے درمیان بھی ایک سمجھوتا طے کرایا تھا ۔

اس کے تحت حالیہ مہینوں کے دوران میں شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع چار قصبوں کے سنی مکینوں کو شمالی صوبے ادلب میں منتقل کیا گیا ہے اور وہاں سے اہل تشیع کو ان قصبوں اور شمالی شہر حلب میں لا بسایا گیا ہے۔شامی فوج نے باغیوں کے زیر قبضہ ان چاروں قصبوں کا گذشتہ پانچ چھے سال سے محاصرہ کررکھا تھا اور وہاں سے باغی جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو نکالنے کے بعد ایک مرتبہ پھر وہاں صدر بشارالاسد کی حکومت کی عمل داری قائم ہوگئی ہے۔

شام میں انتقال آبادی کا یہ سمجھوتا قطر کی ایک شرط پر ہوا تھا کہ عراق میں حزب اللہ بریگیڈ نے جن قطری شیخوں کو یرغمال بنا رکھا تھا،انھیں رہا کردیا جائے گا۔قطر اور حزب اللہ کے درمیان اس سلسلہ جنبانی کے آغاز کے بعد اب حال ہی میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔5 جون کو جب سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر کے سفارتی تعلقات توڑ لیے اور اس کے ساتھ اپنی برّی اور بحری سرحدیں بند کردیں اور اس کی فضائی ناکا بندی بھی کردی تو حزب اللہ کے ملکیتی یا حامی میڈیا نے قطر کے حق میں خبریں دینا شروع کردیں حالانکہ پہلے یہی میڈیا قطر کی مخالفت کرتا رہا تھا۔

لبنان کے حزب اللہ نواز اخبار الاحد نے قطری ایشو پر ایسی رپورٹس شائع کی ہیں جن میں اس نے خلیجی عرب ممالک کے قطر سے تعلقات توڑنے کے فیصلے کو ایک ’’ خلیجی سازش ‘‘ قرار دیا ہے۔اس کی ایک سرخی کا عنوان یہ تھا:’’ خلیج کی قطر کے خلاف نرم جنگ‘‘۔ اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی قطر کے خلاف فرد الزام کا آغاز عرب امن اقدام سے ہوا تھا۔ یہ امن منصوبہ سعودی عرب نے 2002 ء میں بیروت میں منعقدہ عرب سربراہ اجلاس پیش کیا تھا۔قطر نے الجزیرہ نیوز چینل کے ذریعے اس کی مذمت کی تھی تاکہ قطر خلیجی ریاستوں کی رائے عامہ کے برعکس کردار ادا کرنے کی کوشش کر سکے۔پھر اس نے اس خطے میں ایرانی خطرات کے حوالے سے سعودی عرب اور دوسرے خلیجی عرب ممالک کے برعکس موقف اختیار کیا تھا۔