سعودی عرب: "جارحانہ کشتیوں" اور المرجان فیلڈ سے متعلق تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی جانب سے پیر کے روز اعلان کیا گیا کہ سعودی روئل نیوی کی فورسز نے ایرانی پاسداران انقلاب کے تین ارکان کو گرفتار کر لیا۔ یہ تینوں افراد گولہ بارود سے لدی اس کشتی پر سوار تھے جو جمعے کی شب 8:28 پر خلیج عربی میں سعودی آئل فیلڈ کے "المرجان" پلیٹ فارم کی جانب بڑھ رہی تھی۔

سعودی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق پکڑی جانے والی کشتی ان 3 کشتیوں میں شامل تھی جنہوں نے مذکورہ آئل فیلڈ کا رخ کیا۔ وزارت خارجہ کے سرکاری اکاؤنٹ کی ٹوئیٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کشتیوں پر سرخ اور سفید رنگوں پر مشتمل پرچم لگے ہوئے تھے۔ کشتیوں نے سعودی بحریہ کی فورسز کی جانب سے انتباہی فائرنگ پر کان نہیں دھرے اور تیزی سے سعودی المرجان آئل فیلڈ کا رخ کیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہ کشتیاں مملکت کی سمندری حدود میں تخریب کاری کے مقصد سے داخل ہوئی تھیں اور ان میں ایک کشتی پر ہتھیار بھرے ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ المرجان فیلڈ پلیٹ فارم خلیجِ عربی میں ارامکو کمپنی کا سب سے بڑا منصوبہ شمار کیا جاتا ہے۔ ارامکو 2020ء تک خود کو دنیا کی سب سے بڑی توانائی کمپنی بنانے کا ویژن رکھتی ہے۔

یہ پلیٹ فارم آٹھ سمندری پلیٹ فارموں کی پیداوار وصول کرتا ہے۔ اس کے علاوہ دمام شہر میں شاہ عبدالعزیز بندرگاہ پر تیار کیے جانے والے اس پلیٹ فارم کی خدمات میں زیر سمندر بجلی کے کیبلوں کے ذریعے تمام پلیٹ فارموں کو بجلی فراہم کرنا شامل ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق المرجان پلیٹ فارم اور اس کی تنصیبات کے مستقبل کے منصوبوں میں 3 لاکھ بیرل کی یومیہ پیداوار اور 100 ترقیاتی کنوئیں شامل ہیں۔

اس بات کی امید ہے کہ 3500 ٹن وزنی المرجان پلیٹ فارم آئل فیلڈز میں پیداوار کی سطح برقرار رکھنے کے سلسلے میں ارامکو کمپنی کا تزویراتی مرکز ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں