.

شام میں اپنی فوج کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے: امریکا

روس کے ساتھ روابط برقرار ہیں: امریکی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج کے نے کہا ہے کہ وہ شام داعش کے خلاف سرگرم اپنی فوج کے دفاع میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گے۔ نیز امریکی فوج شام کی فضاء میں امریکی طیاروں کی آمد ورفت کا راستہ تبدیل کیا جائے گا تاکہ فضائی آمد ورفت کے دوران خطرات سے بچا جاسکے۔

امریکی فوج کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اتوار کو اتحادی فوج کے جنگی طیاروں نے شام کا ایک جیٹ طیارہ مار گرایا تھا۔

ادھر وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحادی فوج شام میں داعش کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔ اس لیے شام میں امریکی فوج کو اپنے دفاع اور تحفظ کا حق حاصل ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود امریکا شام میں روس کے ساتھ رابطے قائم رکھے گا۔

خیال ہے کہ کل سوموار کو روس نے خبردار کیا تھا کہ دریائے فرات کے مغرب کی فضائی حدود میں جنگی ہوائی جہازوں سے اپنے ایک ٹارگٹ کے طور پر نمٹے گا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپایسر کا کہنا ہے کہ اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی سے بچنے کے لیے ہم روس کے ساتھ رابطے کھلے رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک شام میں امریکی اور روسی افواج کےدرمیان رابطے قائم ہیں۔

قبل ازیں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان لیفیٹننٹ جنرل ڈامین بیکارٹ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شام میں ہم امریکی فوج کے دفاع کے لیے جرات مندانہ اقدامات کریں گے۔ اس ضمن میں امریکی طیاروں کے روٹ تبدیل کیے جاسکتے تاکہ داعش کے خلاف اْپریشن جاری رکھا جاسکے۔ موجودہ جنگی معرکے میں امریکی جنگی ہوائی جہازوں کو شام کی فضائی حدود میں لاحق خطرات سے دفاع ناگزیر ہے۔