.

قطری وزیر خارجہ کے متضاد بیانات سے ریاستی خبط الحواسی عیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب کسی سیاسی شخصیت کے پاس کوئی حجت باقی نہیں رہتی تو اس کی کمزوری اور خبط الحواسی واضح طور پر ظاہر ہو جاتی ہے۔ شاید ایسا ہی کچھ پیر کے روز قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کے ساتھ ہوا۔

قطر کے وزیر خارجہ کا بیان ان کے اپنے ہی الفاظ کے متضاد ثابت ہوا.. یہاں تک کہ اس خلیجی ریاست کے موقف میں واضح بوکھلاہٹ کے آثار نظر آ رہے ہیں جو سعودی عرب ، امارات ، بحرین اور مصر کی جانب سے تعلقات منقطع کیے جانے کے بعد حقیقی بحران کا شکار ہے۔

محمد بن عبدالرحمن نے پہلے تو یہ باور کرایا کہ قطر اپنی خارجہ پالیسی پر مذاکرات نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے دو ٹوک انداز میں یہ بھی کہا کہ بائیکاٹ کرنے والے ممالک کے ساتھ مذاکرات یا بات چیت بائیکاٹ ختم کیے جانے کے بعد ہی کی جا سکتی ہے۔ تاہم پھر خود ہی اس بات پر لوٹ آئے کہ ان کا ملک بات چیت اور خلیجی ممالک کے اندیشے دور کرنے کے لیے تیار ہے۔

قطری وزیر خارجہ کا بیان بالخصوص یہ دعوی کہ خلیجی ممالک کے اقدامات سے ایسا نظر آتا ہے کہ یہ ممالک قطر سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں.. ہر سننے والے پر اس بوکھلاہٹ کو عیاں کرنے کے لیے کافی ہے۔ کیا خلیجی ممالک قطر سے چھٹکارہ پانے کے لیے کوشاں ہیں ؟ خلیجی ممالک تو ایک سے زیادہ مرتبہ ثبوت کے ساتھ یہ یہ باور کرا چکے ہیں کہ قطر کی سیاسی قیادت نے ایک سے زیادہ مواقع پر ان ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی۔ بالخصوص سابق امیرِ قطر ، ان کے وزیر خارجہ اور معمر قذافی کے درمیان بات چیت کی آڈیو ریکارڈنگ جس میں وہ سعودی عرب کے خلاف سازش کے درپے ہیں۔ اس کے علاوہ بحرین کے حوالے سے دیگر افشا ہونے والی معلومات بھی ہیں۔

قطری وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک خلیجی ممالک کے تحفظات سننے اور ان کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ اگرچہ یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں کہ جن امور کو انہوں نے تحفظات قرار دیا ہے وہ ٹھوس "حقائق" ہیں.. یعنی کہ شدت پسند تنظیموں اور اداروں کی فنڈنگ جن کو دوحہ میں محفوظ پناہ گاہ حاصل ہے۔

قطری وزیر خارجہ ایک طرف اس امر کو دُہراتے ہیں کہ کویت وساطت اور ثالثی کے طور پر قائد کا کردار رکھتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے تصدیق کی ہے کہ وہ حالیہ بحران کے اقتصادی اثرات پر بات چیت کے لیے آئندہ ہفتے واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔ اس سے قبل وہ اسی مقصد کے ساتھ پیرس اور لندن بھی گئے۔

سیاسی شخصیات کے نزدیک قطری وزارت خارجہ اگر اپنے قول کے مطابق واقعی بحران کے حل کے لیے کوشاں ہے تو اسے چاہیے تھا کہ وہ پہلے اپنی سفارتی اور سیاسی کوششوں کو کویت کی کوششوں کے پیچھے اکٹھا کرتی۔