.

امریکی اتحاد نے داعش کے مفتی ِاعظم کی ہلاکت کی تصدیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی قیادت میں اتحاد نے شام میں عراق کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے میں ایک فضائی حملے میں داعش کے خود ساختہ مفتیِ اعظم ترکی البنعلی کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

اتحاد نے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ اتحاد نے داعش کے ’’ مفتی اعظم‘‘ ترکی البنعلی کو 31 مئی کو شام کے قصبے المیادین میں ایک فضائی حملے میں ہلاک کردیا تھا‘‘۔اس حملے کے فوری بعد ترکی البنعلی کی موت کی خبریں منظرعام پر آئی تھیں لیکن امریکا کی قیادت میں اتحاد نے اب ان کی موت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ وہ داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کے قریبی معتمدین میں شمار ہوتے تھے اور انھوں نے غیرملکی جنگجوؤں کو داعش کی صفوں میں بھرتی کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

داعش نے جون کے اوائل میں یہ اطلاع دی تھی کہ ترکی البنعلی شام کے شہر الرقہ میں ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔وہ بحرین میں اس سخت گیر گروپ کی شاخ کے سربراہ تھے۔

تركی البنعلی ابو ہمام الاثری ، ابو سفیان السلیم اور ابو حذیفہ البحرینی کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔البنعلی داعش کے لیبیا کے شہر سرت میں معروف لیڈر رہے تھے ۔وہ وہاں مساجد میں داعش کے اجتماعات سے خطاب کیا کرتے تھے۔وہ 2013ء میں سرت میں منتقل ہوئے تھے ۔انھوں نے وہاں مسجد الرباط میں اسی سال اکتوبر میں ایک تقریر میں شہر کے مینودں پر زوردیا تھا کہ وہ داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کرلیں۔

اس کے بعد وہ جولائی 2015ء میں شام کے شہر الرقہ میں نمودار ہوئے تھے۔وہاں وہ عید کی نماز کے بعد دوبارہ لیبیا چلے گئے تھے۔لیبیا کے مشرقی شہر درنہ میں امریکا کے ایک فضائی حملے مں۔ داعش کے ایک اور لیڈر الانباری کی ہلاکت کے بعد تركی البنعلی سرت منتقل ہوگئے تھے اور انھوں نے ابوبکر البغدادی کی ہدایت پر داعش کے جنگجوؤں کو از سر نو منظم کیا تھا۔

چونتیس سالہ بنعلی بحرین کے شہرالمحرق میں پیدا ہوئے تھے۔انھوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم اسی شہر میں واقع مدرسہ الایمان سے حاصل کی تھی اور مدرسہ الہدایہ کے شعبہ ادب سے اعلیٰ ثانوی تعلیم حاصل کی تھی۔

اس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے دبئی کے کلیہ الاسلامیہ و العربیہ میں داخل ہوئے تھے۔جہاں انھوں نے ڈیڑھ سال تک ہی تیم حاصل تھی اور متحدہ عرب امارات کے حکام نے شارجہ میں ان کی قیام گاہ پر چھاپا مار کارروائی کرکے انھیں گرفتار کر لیا تھا اور اس کے بعد انھیں بے دخل کر کے واپس بحرین بھیج دیا تھا۔

تركی البنعلی المحرق میں ایک بازار میں واقع مسجد میں امام اور خطیب بن گئے تھے لیکن ان کی انتہا پسندانہ تقریروں کی وجہ سے انھیں وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ وہ الحالہ شہر میں واقع عمر بن عبدالعزیز اسکول میں مختصر وقت کے لیے استاد بھی تعینات رہے تھے لیکن انھیں اس اسکول کی ملازمت سے بھی نکال دیا گیا تھا۔

بحرین کی وزارت داخلہ نے 2015ء میں تركی البنعلی کے انتہا پسندانہ خیالات اور انتہا پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر ان کی شہریت منسوخ کردی تھی۔