.

لیبیا : فوجی کمانڈر کے زیرِ نگرانی قتل کی نئی وڈیو سے ہنگامہ برپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں فوجی کمانڈر کے ہاتھوں دو افراد کو موت کی نیند سلانے کی ایک اور وڈیو منظر عام پر آنے کے بعد نیا ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ وڈیو میں لیبیا کی فوج کے اسپیشل فورس یونٹ "الصاعقہ" کے بنغازی شہر میں کمانڈر کیپٹن محمود الورفلی کی نگرانی میں شہر میں دہشت گرد گروپوں سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو موت کے گھاٹ اتارے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا میں وسیع پیمانے پر پھیل جانے والی اس وڈیو میں الورفلی دو مسلح افراد کے برابر کھڑا نظر آ رہا ہے۔ ان دونوں افراد نے اپنی بندوقوں کا رخ بنغازی میں دہشت گرد گروپوں سے تعلق رکھنے والے دو جنگجوؤں کی جانب کیا ہوا ہے۔ بعد ازاں الورفلی نے دونوں افراد کے سروں میں براہ راست گولی مارنے کا اشارہ کیا۔

وڈیو میں الورفلی کی ریکارڈ شدہ آواز بھی نمودار ہوئی جس میں وہ دہشت گرد گروپوں کو دھمکی دیتے ہوئے باور کرا رہا ہے کہ "ان افراد کا دفاع ناجائز ہے"۔ آگے وہ مزید کہتا ہے کہ "ان لوگوں کے بارے میں کیسے کہا جاتا ہے کہ ان کا قتل جائز نہیں جب کہ مسلمانوں کا خون حرمت والا ہے"۔

اس سے قبل الصاعقہ فورس کی قیادت نے الورفلی کی جانب سے پیش کردہ استعفے کو مسترد کر دیا تھا۔ الورفلی نے یہ استعفی بنغازی میں لڑائی کے دوران پکڑے جانے والے دہشت گرد عناصر کو موت کے گھاٹ اتارنے پر پیدا ہونے والے تنازعے کے پس منظر میں دیا تھا۔

الورفلی ایک سے زیادہ مرتبہ سوشل میڈیا پر پھیلی وڈیو میں نمودار ہو چکا ہے جن میں اسے دہشت گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو موت کی نیند سلاتے ہوئے دکھایا گیا۔

لیبیا میں بلاگروں اور سوشل میڈیا کے حلقوں کا کہنا ہے کہ "الورفلی" ماورائے عدالت قتل کی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں لیبیا کی فوج نے ایک بیان بھی جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ماورائے عدالت قصاص کی کارروائیاں غیر قانونی ہیں۔ بیان میں باور کرایا گیا کہ انٹرنیٹ پر پھیلی یہ وڈیوز لیبیا کی فوج کے موقف کی نمائندگی نہیں کرتی ہیں بلکہ یہ "انفرادی اور ذاتی عمل" ہے۔