.

قطر نے دہشت گردی میں سہولت کاری کے ٹھوس شواہد مسترد کر دیئے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطری حکومت دہشت گردی کی پشت پناہی اور انتہا پسندوں کی مالی امداد کے ناقابل تردید شواہد کے باوجود دوحہ پرعاید الزامات کو مسلسل بے بنیاد قرار دے رہی ہے۔

اس ضمن میں قطری پراسیکیوٹر جنرل حمد بن فطیس المری کا ایک بیان بھی اہمیت کا حامل ہے جنہوں نے مختلف عرب ملکوں میں دہشت گردی اور انتہا پسندی میں معاونت کو مسترد کرتے ہوئے دوحہ کی مداخلت کو سند جواز مہیا کرنے کی کوشش کی ہے۔

قطری پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا ہے کہ دوحہ کا دہشت گردی کی عرب ممالک کی طرف سے جاری کردہ فہرست سے کوئی تعلق نہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطری معاونت حاصل کرنے والے افراد اور اداروں کی جو فہرست جاری ہے وہ بے بنیاد ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ قطری پراسکیوٹر جنرل دانستہ طور پران حقائق اور شواہد کو نظرانداز کررہے ہیں جو دہشت گردی کی معاوت کے حوالے سے قطر کے خلاف چارج شیٹ کے طور پرعرب ممالک کی طرف سے پیش کیے گئے ہیں۔

عرب ممالک کی طرف سے دہشت گردی اور انتہا پسندی میں ملوث اداروں کی فہرست میں عبدالوہاب الحمیقانی کی الشیخ عید آل ثانی الخیریہ فاؤنڈیشن بھی شامل ہے جو یمن میں بھی مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ اس سے قبل دسمبر 2013ء کو امریکی وزارت خزانہ عبدالوھاب الحمیقانی کو القاعدہ کے معاونت کار قرار دے کر بلیک لسٹ کرچکی ہے۔

قطری پراسیکیوٹر جنرل کے مقرب سمجھے جانےوالے قطری اسپیشل فورس کے سربراہ بریگیڈیئر حمد عبداللہ الفطیس المری بھی بیرون ملک دہشت گردی کی معاونت میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔ عبداللہ الفطیس المری لیبیا میں عبدالحکیم بلحاج کے ہمراہ جنگ میں بھی حصہ لے چکے یہں۔ ان پر سنہ 2004ء میں اسپین کے شہر میڈریڈ میں ہونے والے دھماکوں میں بالواسطہ طورپر ملوث ہونے کا الزام عاید کیاجاتا ہے۔

اس کے علاوہ مصر میں کالعدم اخوان المسلمون کے لیڈر وجدی غنیم کو بھی قطر نے پناہ دے رکھی ہے۔ حالانکہ غنیم کو 2004ء میں امریکا میں بھی انتہا پسندی کے الزامات کے تحت گرفتار کیاگیا تھا تاہم ان کی ضمانت پران کی رہائی عمل میں لائی گئی تی۔ سنہ 2009ء میں برطانوی حکومت نے جن 16 شخصیات کے ملک میں داخلے پر پابندی عاید کی تھی ان میں وجدی غنیم کا نام بھی شامل ہے۔

قطری پراسیکیوٹر جنرل مصر محمد شوقی اسلامبولی پرکیوں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جنہیں قطر نے اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے حالانکہ القاعدہ کے لیے ان کی معاونت ریکارڈ پرموجود ہے۔ سنہ 2005ء میں انہیں امریکا کی طرف سے القاعدہ کی معاونت پر بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔ ایسا ایک نام لیبیا کے المہدی حاراتی کاہے جو اقوام متحدہ اور امریکا دونوں کے ہاں بلیک لسٹ ہونے کے بواجود دوحہ میں آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔