.

کوشنر کی اسرائیل ،فلسطین امن مذاکرات کی بحالی کے لیے مشرقِ وسطیٰ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور ان کے مشرقِ وسطیٰ سے متعلق امور کے مشیر اعلیٰ جیرڈ کوشنر بدھ کے روز مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر پہنچ گئے ہیں۔ان کے اس دورے کا مقصد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کا شکار امن مذاکرات کی بحالی ہے۔

کوشنر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کررہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے کوشنر کو ’’ حتمی معاہدے‘‘ کے لیے بنیادی کام کی ذمے داری سونپی ہے۔تاہم فریقین کے درمیان گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں ،اس لیے فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں ہے۔

اس ماہ 1967ء کی مشرقِ وسطیٰ جنگ کے پچاس سال پورے ہوگئے ہیں۔اس جنگ میں اسرائیل نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے ، مشرقی القدس اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔فلسطینی ان تینوں علاقوں پر مشتمل اپنی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔امریکا گذشتہ دو عشروں کے دوران میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدہ کرانے کے لیے کوشاں رہا ہے لیکن اس کی یہ کوششیں اسرائیل کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ناکام سے دوچار ہوتی رہی ہے۔

اب کے جیرڈ کوشنر کے نئے امن مشن کو آغاز سے قبل ہی ایک نئے بحران کا سامنا ہے۔مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایک جانب تو تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور دوسری جانب اسرائیل نے ان یہودی آبادکاروں کے لیے مغربی کنارے میں ایک نئی بستی کا سنگ بنیاد رکھا ہے جن کے غیر قانونی مکانوں کو فروری میں اسرائیلی سپریم کورٹ کے حکم پر مسمار کردیا گیا تھا۔نیتن یاہو نے امونا بستی کے مکینوں کے نقصان کے ازالے کا عزم کیا تھا اور مغربی کنارے کے شمال میں ان کی مسمار کی گئی بستی کے نزدیک ہی اب ایک نئی بستی بسائی جارہی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے اس اقدام پر فلسطینیوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی سرزمین پر یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیر کی جانے والی تمام بستیاں ہی غیر قانونی ہیں اور وہ امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں جبکہ صدر ٹرمپ اسرائیل سے حال ہی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کے معاملے میں ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرے۔

ایک فلسطینی عہدہ دار مصطفیٰ برغوثی کا کہنا ہے کہ ’’ نیتن یاہو اس طریقے سے ٹرمپ کے ایلچی سے ملیں گے۔ اب حقیقی سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل سے یہ کہے گی کہ بہت ہوچکا ۔اب وہ آبادکاری کی تمام سرگرمیوں کو فوری طور پر روک دے یا پھر وہ اس اسرائیلی اشتعال انگیزی کو قبول کرلے گی‘‘۔

کوشنر نے اپنی آمد کے بعد اور اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات سے قبل صحافیوں سے کوئی گفتگو نہیں کی ہے بلکہ اسرائیلی سکیورٹی ایجنٹوں نے کیمرا مینوں کو ان کے قافلے کی آمد کی تصاویر بنانے سے بھی روک دیا تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے ایک کیمرا مین کو نیتن یاہو کے دفتر سے ملحقہ سرکاری عمارت سے نکل جانے کا حکم دیا اور ایک کیمرا مین سے کہا کہ وہ وزیراعظم کے دفتر کی تمام تصاویر کو اپنے میموری کارڈ سے حذف کردے۔

امریکی صدر کے داماد اپنی آمد کے فوری بعد ایک اسرائیلی خاتون پولیس افسر کے گھر تعزیت کے لیے گئے جو جمعے کی شب مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم حصے میں فلسطینی حملہ آوروں کے چاقو حملے میں ہلاک ہوگئی تھی۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو گذشتہ اتوار کو مقتولہ کے والدین کے گھرتعزیت کے لیے گئے تھے اور اس کو ہیرو قرار دیا تھا۔انھوں نے اس واقعے کی مذمت نہ کرنے پر فلسطینی صدر محمود عباس کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔