.

نئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو سعودی وژن کا تخلیق کار اور عسکری اتحادوں کا رہ نما شمار کیا جاتا ہے۔ قائدانہ منصبوں کو سنبھالنے کے ساتھ ہی ان کا ستارہ پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے۔

اس نوجوان شہزادے کو امریکی جریدے "فارن پالیسی" نے 2015ء کے با اثر ترین رہ نماؤں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔انھوں نے تیل پر مملکت کا انحصار ختم کرنے کے لیے اپریل 2016 میں "وژن 2030" کے نام سے ایک پروگرام کا اعلان کیا جو سعودی عرب کے مستقبل کی تاریخ کا ایک نیا صفحہ ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان 1985ء میں الریاض میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم دارالحکومت کے اسکولوں میں ہی حاصل کی اور انٹرمیڈیٹ میں سعودی عرب کی سطح پر ابتدائی دس پوزیشنیں لینے والے طلبہ میں شامل رہے۔ چیلنج اور کامیابی کے عاشق شہزادے نے ریاض کی شاہ سعود یونی ورسٹی سے قانون میں گریجویشن کیا اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔

سرگرمیاں اور کامیابیاں

شہزادہ محمد نے سال 2007 میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز اس وقت کیا جب انہیں سعودی کابینہ میں ماہرین کونسل کا کل وقتی مشیر مقرر کیا گیا۔ دسمبر 2009 میں انہیں اپنے والد اور اس وقت الریاض کے گورنر (شاہ سلمان) کا خصوصی مشیر بنا دیا گیا۔

سال 2013 کے آغاز پر شاہ سلمان کے مملکت کے ولی عہد بننے پر شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد کے دفتر کا نگراں مقرر کیا گیا۔ مارچ 2013 میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے انہیں ولی عہد کے دفتر کا سربراہ اور ولی عہد کا خصوصی مشیر بنا دیا گیا۔ ان کا منصب وزیر کے مساوی تھا۔ جولائی 2013 میں انہیں مزید ذمے داریاں سونپتے ہوئے اس وقت کے وزیر دفاع شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے دفتر کا نگرانِ عام مقرر کر دیا گیا۔ سال 2014 میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے شہزادہ محمد بن سلمان کو وزیر مملکت اور کابینہ کا رکن بنا دیا گیا۔

جنوری 2015 میں شاہ سلمان کے فرماں روا بننے پر شہزادہ محمد کو پہلے مملکت کا وزیر دفاع اور پھر شاہی دفتر کا سربراہ اور شاہ سلمان کا خصوصی مشیر مقرر کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں انہیں اقتصادی اور ترقیاتی کونسل کی صدارت بھی سونپ دی گئی۔

اپریل 2015 میں شاہ سلمان کی جانب سے جاری فرمان کے تحت شہزادہ محمد کو نائب ولی عہد اور کابینہ کے سربراہ کا نائبِ دوم مقرر کر دیا گیا۔

اتحادوں کے رہ نما اور وژن 2030 کے تخلیق کار

شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیر دفاع کا منصب سنبھالنے کے ساتھ ہی سعودی عرب کے لیے طاقت ور اتحادوں کے قیام پر کام کیا۔ اس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا تھا۔ شہزادہ محمد نے سب سے پہلا عزم کی آندھی کے نام سے بنایا جس کا مقصد یمن میں آئینی حکومت کی واپسی کو ممکن بنانا تھا۔

شہزادہ محمد بن سلمان اسلامی ممالک کے اتحاد کے قائد بھی تھے اور انہوں نے کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ایک اسلامی طاقت تخلیق دینے پر طویل عرصے تک کام کیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان عالمی سطح پر بڑے اور اہم دورے کیے۔وہ چین ، جاپان ، روس ، امریکا اور دیگر کئی ممالک گئے جہاں انہوں نے اتحادوں کے قیام اور خطے کے بہت سے معاملات کے سیاسی حل کے سلسلے میں بات چیت کی۔

اس سعودی نوجوان شہزادے نے مملکت میں داخلی اصلاحات پر بھی بھرپور انداز سے کام کیا۔ اس دوران وژن 2030 کے نام سے ایک جامع پروگرام پیش کیا جس میں مملکت کی تمام وزارتوں کو شریک کیا گیا تا کہ سعودی عرب میں اقتصادی مسائل کے حل کو تلاش کیا جائے اور تیل پر آمدن کے ایک بڑے ذریعے کے طور پر انحصار کو ختم کیا جائے۔