منی لانڈرنگ کے سبب ایران پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی سینیٹ کے دو سابق ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کی سپورٹ کے مقصد سے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے سبب ایران پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسپین میں منی لانڈرنگ کے انسداد سے متعلق بین الاقوامی گروپ Financial Action Task Force (FATF) کے رکن ممالک کا اجلاس ہو رہا ہے۔

منگل کے روز امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" میں شائع ہونے والے ایک مشترکہ مضمون میں سابق سینیٹر جوزف لیبرمین اور مارک کیرک نے ایف اے ٹی ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کی فنڈنگ کرنے پر ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کی جائیں۔ دونوں سینیٹروں نے باور کرایا کہ "انسدادِ منی لانڈرنگ کے گروپ نے گزشتہ برس ایران کو اپنا برتاؤ تبدیل کرنے کے واسطے 12 ماہ کی مہلت کا تعین کیا تھا۔ تاہم تہران کی سابقہ روش جاری ہے۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ دہشت گردی کے لیے ایرانی حکومت کی سپورٹ قائم و دائم ہے اور یہ ریاست اب بھی دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک میں سرِ فہرست ہے.. اور ایران نے منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا"۔

امریکی سینیٹ کے سابق ارکان کے مضمون کے مطابق "ایران میں اختیار مرشد علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے ہاتھوں میں ہے۔ تاہم روحانی اس نظام سے علاحدہ نہیں ہے۔ البتہ ایران میں حالات کو تبدیل کرنا اس کے بس میں نہیں ہے"۔

دونوں سینیٹروں نے مضمون کے اختتام پر زور دیا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے سرگرم عمل گروپ اپنے تمام ارکان سے مطالبہ کرے کہ وہ ایرانی نظام کو اپنی زیر پابندی عناصر کی فہرستوں میں شامل کریں"۔

معاہدے کے حوالے سے ایران میں شدید اختلافات

یاد رہے کہ گزشتہ ستمبر میں روحانی کی حکومت کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ کے انسداد سے متعلق معاہدےFATF پر دستخط کے سبب ایران میں بڑا اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔ ملک میں سخت گیر حلقوں نے اس اقدام کو قومی سلامتی کے خلاف قرار دیا تھا کیوں کہ اس سے پاسداران انقلاب کی اقتصادی اور بیرونی سرگرمیوں پر روک لگ رہی تھی۔ وہ سرگرمیاں جن کا انحصار منی لانڈرنگ پر ہوتا ہے تا کہ سرحد پار کارروائیوں کے لیے فنڈنگ فراہم کی جا سکے۔ اسی طرح شام ، عراق اور یمن میں ایرانی مداخلت اور خطے اور دنیا بھر میں تہارن کے زیر انتظام جماعتوں اور ملیشیاؤں کو مالی رقوم کی فراہمی بھی شامل ہے۔

تاہم روحانی کی حکومت نے معاہدے پر دستخط کے حوالے سے اپنے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ اس سے بینکنگ اور مالی رقوم کی منتقلی کے حوالے سے ایران پر عائد پابندیاں اٹھائے جانے کی راہ ہموار ہو گی۔

جس چیز نے سخت گیروں حلقوں کو غصے سے پاگل کیا وہ یہ تھی کہ دستخط شدہ معاہدے کو لاگو کرتے ہوئے ایرانی مرکزی بینک بعض مشتبہ لین دین کو روکنے کے لیے متحرک ہو گیا۔

اس لین دین میں ایرانی نظام کے اعلی ترین طبقے اور پاسداران انقلاب کی قیادت اور اداروں سے قریبی تعلق رکھنے والی شخصیات ملوث تھیں۔

حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنانے والے سخت گیر حلقوں کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ایران کی بیرونی بالخصوص علاقائی مالی سرگرمیوں کی جاسوسی کے مترادف ہے.. اس کے علاوہ یہ ایرانی سرزمین میں ایرانی شہریوں پر غیر ملکی قوانین کا مسلط کیا جانا ہے۔

ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ اس امر کی نفی کر چکے ہیں کہ نیوکلیئر معاہدے کا اُن بینکنگ پابندیوں سے کوئی تعلق ہے جو ایرانی مرکزی بینک نے پاسداران انقلاب پر عائد کیں۔ تاہم ایران نے منی لانڈرنگ کے انسداد سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے ہیں لہذا وہ پابند ہے کہ مشکوک بینکنگ لین دین کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کرے اور متعلقہ افراد کو ایرانی بینکنگ کی خدمات کے حصول سے روکے۔

ایرانی مجلس خبرگان رہبری کے سربراہ سخت گیر مذہبی شخصیت احمد جنتی نے مطالبہ کیا تھا کہ مجلس شوری (پارلیمنٹ) کی جانب سے اس معاہدے کو مسترد کیا جائے کیوں کہ یہ درحقیقت مغرب کا آلہ کار ہے اور اس کا مقصد منی لانڈرنگ کے انسداد کے بہانے ریاستوں کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کرنا اور ایرانی بینکوں کی مالی رقوم اور تمام تر دستاویزات کا کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

جنتی نے ایرانی پاسداران انقلاب کی سرگرمیوں کو محدود کیے جانے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں