تصویرں بولتی ہیں: عراقی وزیر اعظم کا اچھا خیر مقدم تہران میں ہوا یا ریاض؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

حال ہی میں عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے سعودی عرب اور اس کے بعد ایران کا دورہ کیا۔ دونوں ملکوں کے دوروں کے دوران میزبان ممالک کی اعلیٰ قیادت کےساتھ العبادی کی تصاویر نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

سوشل میڈیا پر عراقی وزیراعظم کی سعودی قیادت اور ایرانی رہ نماؤں سے ملاقات کا تقابل کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ سعودیہ میں العبادی کو غیرمعمولی پروٹوکول دیا گیا جب کہ ایران میں ان کی توہین کی گئی۔

سماجی رابطوں کی ویب ساٗٹس پر گردش کرنے والی تصاویر میں العبادی کو سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ سے ملاقات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے حیدر العبادی کا ایک خود مختار ملک کے صدر کی حیثیت سے استقبال کیا مگر ایران میں ایسا نہیں دیکھا گیا۔

خیال رہے کی عراقی وزیراعظم گذشتہ سوموار کو سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ریاض پہنچے تھے۔ اپنے ایک روزہ دورے کے بعد وہ منگل کو ایران روانہ ہوگئے جب کہ اسی روز وہ اپنا دورہ ختم کر کے کویت پہنچے۔

میڈٰیا کو جاری کردہ تصاویر میں حیدر العبادی کو ایرانی سپریم لیڈر کے سامنے ایک صوفے پر بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے۔ اس صوفے پر ان کے ساتھ دو اعلیٰ ایرانی عہدیدار بھی موجود ہیں مگر اس پوری تقریب میں کہیں بھی عراق کا قومی پرچم دکھائی نہیں دیتا۔

’الاعظمیہ نیوز‘ ویب پورٹل نے عراقی وزیراعظم کی شاہ سلمان اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ ملاقات کی تصاویر جاری کی ہیں۔ ان تصاویر کےساتھ ساتھ یہ تبصرہ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے دوران شاہ سلمان سے ملاقات کے وقت عراق کا قومی پرچم موجود ہے جب کہ دورہ تہران کے دوران یہ پرچم کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ اس لیے ایران دورے کے دوران عراقی وزیراعظم اور پوری عراقی قوم کی خود مختاری کی توہین کی گئی ہے۔

’عربستان الاھواز‘ کے فیس بک صفحے پر بھی ایسی ہی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں جن میں شاہ سلمان سے ملاقات کے دوران عراق کا پرچم دکھائی دے رہا ہے جب کہ ایرانی رہ نماؤں سے ملاقات کے وقت عراق کا پرچم موجود نہیں۔ ناقدین نے ایران میں وزیراعظم العبادی سے ملاقات کے وقت عراق کا پرچم نمایاں نہ کرنےکو عراقی قوم کی توہین قرار دیا ہے۔ نیز یہ ایرانی سپریم لیڈر نے عراقی وزیراعظم کو الگ بٹھانے کے بجائے انہیں اپنے کارندوں کے درمیان ایک ہی صوفے پر بیٹھا کر میزبانی کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ دونوں پہلو عراقی قوم کی توہین کے مترادف ہیں۔

عراقی پارلیمنٹ میں کرد ڈیموکریٹک پارٹی کے رہ نما عرفات کرم نے بھی ایرانی قیادت سے وزیراعظم کی ملاقات کی تصاویر کو توہین آمیز قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت نے وزیراعظم کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا ہے وہ عراقی قوم کی توہین ہے۔ العبادی صرف اہل تشیع کے نہیں بلکہ پوری عراقی قوم کی نمائندگی کرتے ہیں۔

1

مقبول خبریں اہم خبریں