حرمِ مکی کو نشانہ بنانے کی مجرمانہ کوشش کی وسیع پیمانے پر مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

جمعے کے روز حرمِ مکی کو نشانہ بنانے کی مجرمانہ کوشش کے بعد مخلتف ممالک اور مذہبی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے وسیع پیمانے پر سخت مذمت کا اظہار کیا گیا ہے۔

اردن کی حکومت نے باور کرایا ہے کہ وہ دہشت گردی کے مقابلے میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ حکومت نے دہشت گردوں کا راستہ روکنے کے لیے مملکت کی کوششوں کو گراں قدر قرار دیا۔ اردن کے وزیر مملکت برائے اطلاعات اور حکومت کے سرکاری ترجمان محمد المومنی نے کہا ہے کہ اردن کی حکومت رمضان کے آخری ایام میں حرم مکی شریف کو نشانہ بنانے کے اُس منصوبے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے جس کو سعودی سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔

متحدہ عرب امارات نے بھی ایک خوکش حملہ آور کے ذریعے حرم مکی کو نشانہ بنانے کی دہشت گردانہ کوشش کی مذمت کی ہے۔ ہفتے کے روز ایک بیان میں اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے برادر مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ مکمل یک جہتی کو باور کراتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں مملکت کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھیانک جرم ظاہر کرتا ہے کہ یہ دہشت گرد جماعتیں تخریب کاری اور وحشیانہ پن کے کس حجم تک پہنچ گئی ہیں اور جس کو کوئی عاقل شخص کسی طور جواز کا حامل قرار نہیں دے سکتا۔

مصر کے وزیر اوقاف محمد مختار جمعہ کا کہنا ہے کہ "بزدلانہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں ہم برادر مملکت سعودی عرب کے ساتھ ایک ہی خندق میں کھڑے ہیں۔ حرم مکی کو نشانہ بنانے کی کوشش اللہ عز و جل کے شعائر اور اس کے محفوظ حرم کے مہمانوں کے خون کی واضح بے حرمتی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اس عمل کو حلال سمجھنے والا اسلام سے خارج ہے اور سچی توبہ کے بغیر اس کی دین میں واپسی ممکن نہیں۔ حرمین شریفین یا اللہ کے کسی بھی گھر کو نشانہ بنانے کی سوچ.. اللہ کے حکم سے ان دہشت گرد جماعتوں اور ان کی سرپرستی کرنے والے عناصر کے اختتام کا آغاز ثابت ہو گی"۔

مملکت بحرین نے بھی مسجد حرام کے امن و امان اور وہاں موجود نمازیوں اور معتمرین کو نشانہ بنانے کے دہشت گرد منصوبے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ یہ پست دہشت گرد کارروائی تمام مذہبی ، اخلاقی اور انسانی اقدار کے منافی ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں بحرین نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دانش مندانہ قیادت میں سعودی عرب کے اس کردار کو سراہا ہے جو وہ اللہ کے مہمانان یعنی معتمرین اور حجاج کے تحفظ ، راحت اور اطمینان کے لیے ادا کر رہا ہے۔

رابطہ عالمِ اسلامی تنظیم نے بھی اپنے طور پر مسجد حرام کو نشانہ بنانے کی مجرمانہ کوشش کی پُر زور مذمت کی ہے۔ تنظیم کے سکریٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "دہشت گردی وہ بھیانک چہرہ ہے جو تمام تر اقدار سے علاحدہ ہونے کے بعد اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھنے اور نفس کی گمراہی کی پیروکاری کے بعد سامنے آتا ہے۔ عقل و فہم کے سلب ہو جانے کے سبب ان کارروائیوں کو اسلام سے منسوب کر دیا جاتا ہے"۔

ادھر اسلامی تعاون تنظیم نے حرم مکی کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے منصوبے کی مذمت کی ہے۔ جدہ میں تنظیم کے صدر دفتر کی جانب سے جاری بیان میں اس کے سکریٹری جنرل یوسف العثیمین نے سعودی سکیورٹی اہل کاروں کے چوکنّا رہنے اور ان کی مستعدی کی تعریف کی۔ انہوں نے انسداد دہشت گردی میں ریاض کے ساتھ بھرپور یک جہتی کا اظہار کیا۔

مصر نے بھی اپنی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں "سعودی عرب میں حرمِ مکی کو نشانہ بنانے کی خبیث کوشش" کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ مصر نے باور کرایا کہ اس کی حکومت اور عوام برادر مملکت سعودی عرب کے امن و امان کے تحفظ کے سلسلے میں مملکت کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ "رمضان کے ان مبارک ایام میں مسلمانوں کے قبلے اور روئے زمین کے پاکیزہ ترین مقام حرمِ مکی کو نشانہ بنانے کی کوشش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دہشت گرد جماعتیں رواداری پر مبنی اسلامی تعلیمات کے دائرے سے خارج ہو چکی ہیں"۔ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں کندھے سے کندھا ملائے۔

کویتی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار ذریعے نے کویت کی جانب سے اس گھناؤنے منصوبے کی سخت مذمت کی ہے جس میں حرم مکی شریف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

کویتی خبر رساں ایجنسی (كونا) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "کویت کی ریاست برادر مملکت سعودی عرب کی جانب سے اپنے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے ہر اقدام کی حمایت کرتی ہے اور اس سلسلے میں مملکت کے ساتھ کھڑی ہے"۔ مذکورہ ذریعے نے انسداد دہشت گردی میں سعودی عرب کے کردار اور اس گھناؤنے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے سکیورٹی اداروں کی ہوشیاری کو بھی سراہا۔

اسلامی تعاون تنظیم کے زیر انتظام تعلیم ، سائنس اور ثقافت کی ذیلی تنظیم ((ISESCO) نے حرم مکی کو نشانہ بنانے کے لیے دہشت گرد کارروائی کی ناکام کوشش کی سخت مذمت کی ہے۔ تنظیم نے اپنے ایک بیان میں اس دہشت گرد اور مجرمانہ کوشش کو زمین میں ایک بڑا فساد ، عظیم گناہ اور سفاکانہ انتہا پسندی قرار دیا جو اس کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے باطل نظریات کا ثبوت ہیں۔ بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ اسلامی تنظیم دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب جنگ میں مملکت کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی مسجد حرام میں نمازیوں اور معتمرین کو نشانہ بنانے کی دہشت گردانہ کوشش کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنی اور فلسطینی عوام کی جانب سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے میں مملکت سعودی عرب کے لیے مکمل یک جہتی کا اظہار کیا۔ محمود عباس نے اس دعا کا بھی اظہار کیا کہ اللہ عز و جل مملکت سعودی عرب اور اس کے عوام کو ہر طرح کے شر سے محفوظ رکھے۔

اسی سیاق میں مصر کے مفتی اعظم شوقی علام نے حرم مکی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مذمت کی۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ "شدت پسند جماعتوں کے شیطان نے ان کو رمضان مبارک میں مسجد حرام اور اس میں آنے والوں پر حملہ کرنے کی راہ سجھائی جس کے بعد یہ جماعتیں فسق و فجور کے انتہائی درجے پر جا پہنچیں"۔

عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری نے حرم مکی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ دہشت گردی کے ذریعے اسلامی ممالک میں تاریخ اور تہذیب و تمدن کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان علماء کونسل کے سربراہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے "العربیہ" نیوز چینل کے ساتھ گفتگو میں حرم مکی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مذمت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں