"صدّام کی فوج" کے دو افسران البغدادی کی جاں نشینی کے امیدوار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

داعش تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی خبر کی تصدیق ہو جانے کی صورت میں ممکنہ طور پر البغدادی کے دو سینئر ترین معاونین میں سے کوئی ایک اس کا جاں نشین بنے گا۔ یہ دونوں افراد صدام حسین کی فوج کے سابق افسران ہیں۔

شدت پسند جماعتوں کے امور کے ماہرین کو البغدادی کی جاں نشینی کے حوالے سے کوئی واضح امیدوار نظر نہیں آ رہا مگر ماہرین ایاد العبیدی اور عیاد الجمیلی کو مضبوط ترین امیدوار شمار کر رہے ہیں۔

العبیدی پچاس کے پھیرے میں ہے اور اس نے داعش تنظیم کی وزارت جنگ کو سنبھالا ہوا ہے جب کہ الجمیلی عمر کے لحاظ سے چالیس کی دہائی میں ہے اور اس کو تنظیم کے اندر سکیورٹی کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔ عراقی ٹیلی وژن نے رواں برس اپریل میں کہا تھا کہ الجمیلی مارا جا چکا ہے مگر ابھی تک اس خبر کی تصدیق نہیں ہوئی۔

یہ دونوں افسران 2003 میں عراق پر امریکی حملے اور صدام حسین کی حکومت کے سقوط کے بعد عراق میں بغاوت کی تحریک میں شامل ہو گئے تھے۔

گزشتہ برس فضائی حملوں میں البغدادی کے نائب ابو علی الانباری ، تنظیم کے سابق وزیرِ جنگ ابو عمر الشیشانی اور پروپیگنڈہ مہم کے ذمے دار ابو محمد الجولانی کے مارے جانے کے بعد یہ دونوں شخصیات البغدادی کی اہم ترین معاون بن گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں