.

جنگ زدہ موصل سے سیکڑوں شہریوں کا بہ حفاظت انخلاء

داعش کے خلاف جنگ آخری مراحل میں داخل ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سیکیورٹی فورسز نے موصل کے مغربی حصے میں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران انتہا پسند تنظیم کے چنگل میں پھنسے سیکڑوں شہریوں کو بہ حفاظت باہر نکالنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ دوسری جانب جنگجوؤں کے قبضے سے مغربی موصل کی تاریخی کالونی سمیت دیگراہم مقامات میں فیصلہ کن لڑائی جاری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی تربیت یافتہ عراقی سیکیورٹی فوسز نے مغربی موصل کے وسط میں مخالف سمت بنائی گئی دو شاہراؤں پرچار مقامات پر باغیوں کو محصور کرنے کے لیے لڑائی جاری رکھی ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ موصل کی ان گنجان آباد کالونیوں جمعہ کے روز ہونے والی لڑائی میں کم سے کم بارہ عام شہری جاں بحق اور سیکڑوں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔

عراق میں عالمی ادارے کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کی ترجمان لیزگرانڈنے نے کہا کہ قدیم موصل میں عراقی فوج اور داعش کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ اس جنگ میں عام شہری بری طرح پھنس گئے ہیں اور ان کے بہ حفاظت انخلاء کا کوئی انتظام نہیں۔ یہ اطلاعات بھی آئی تھیں کی داعش نے ہزاروں عام شہریوں کو انسانی ڈھال بنا رکھا ہے۔

بغداد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی عہدیدار کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں عام شہری، بچے اور عورتیں براہ راست فائرنگ کی زد میں ہیں۔ دوسری جانب عراقی حکام کا کہنا ہے کہ وہ عیدالفطر کے ایام میں مغربی موصل سے داعش کو مکمل طور پر شکست دے دیں گے۔