.

قطر بحران: عرب ممالک کے مطالبات بحرین نے سرکاری طور نشر کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت نے جو کہ خلیج کے تین ممالک سعودی عرب ، امارات اور بحرین کے علاوہ مصر کے درمیان ثالثی کی ذمے داری پوری کر رہا ہے.. چاروں ممالک کے مطالبات کی فہرست قطر کے حوالے کر دی ہے۔ سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے پیش کیے گئے لازمی مطالبات 13 شقوں پر مشتمل ہیں اور پیش کیے جانے کی تاریخ کے بعد دس روز کے اندر ان پر آمادگی ضروری ہے ورنہ دوسری صورت میں اس فہرست کو منسوخ شمار کیا جائے گا۔

خارجہ امور کے اماراتی وزیر مملکت انور قرقاش نے اعلان کیا تھا کہ قطر نے خلیجی ممالک کے مطالبات اِفشا کر دیے جس سے بحران کی گہرائی اور سنگینی کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "مطالبات کا اِفشا کیا جانا وساطت کو ناکام بنانے کی کوشش ہے۔ دانش مندی کا تقاضہ یہ تھا کہ دوحہ اپنے پڑوسی ممالک کے مطالبات کے ساتھ سنجیدگی کے ساتھ معاملہ کرتا"۔

مطالبات کی فہرست میں قطر کی جانب سے سرکاری طور پر ایران کے ساتھ سفارتی نمائندگی کی سطح کم کرنے کا اعلان ، ایرانی اتاشیوں کے دفاتر کی بندش ، ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ متعلق اور مربوط عناصر کا قطری اراضی سے کوچ اور تجارتی تعاون پر اکتفا کیا جانا شامل ہے جس سے ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کا امن متاثر نہ ہو۔ اس کے علاوہ تہران کے ساتھ ہر قسم کا عسکری یا انٹیلی جنس تعاون منقطع کیا جانا بھی اہم مطالبہ ہے۔

مطالبات کی فہرست میں قطر میں حالیہ طور پر زیر تعمیر ترکی کے فوجی اڈے کی فوری بندش، قطری اراضی میں ترکی کے ساتھ ہر قسم کا عسکری تعاون روک دیا جانا اور قطر کی جانب سے تمام دہشت گرد ، فرقہ وارانہ اور نظریاتی تنظیموں کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا اعلان شامل ہے جن میں سرِفہرست بحرین کے لیے خطرہ بننے والی تنظیمیں اور اس کے علاوہ وہ تنظیمیں جن کے بارے میں چاروں عرب ممالک کا کہنا ہے کہ قطر ان کو سپورٹ کرتا ہے۔ ان میں نمایاں ترین الاخوان المسلمین ، داعش ، القاعدہ ، فتح الشام اور لبنانی حزب اللہ تنظیم ہے۔ اس امر کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ قطر ان تنظیموں کو دہشت گرد جماعتیں قرار دے اور انہیں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرے۔

بحرینی سرکاری خبر رساں ایجنسی BNA کے مطابق مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ قطر تمام دہشت گرد یا شدت پسند افراد ، اداروں یا تنظیموں کی ہر قسم کی فنڈنگ کا سلسلہ روک دے۔ قطر چاروں عرب ممالک کی فہرستوں میں کالعدم قرار دیے جانے والے اور مطلوب دہشت گردوں اور امریکی کالعدم عناصر کی فہرستوں میں شامل عناصر کو حوالے کرے.. تسلیم کیے جانے تک ان عناصر کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائداد کو ضبط رکھے ، مستبقل میں ان عناصر کو کسی قسم کی پناہ فراہم نہ کرے اور ان عناصر کی نقل و حرکت اور ان کے قیام سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا پابند رہے۔ اس کے علاوہ سفارتی تعلقات کے منقطع ہونے کے بعد قطر نے جن عناصر کو بھی ملک سے باہر بھیجا ہے انہیں واپس بلا کر ان کے ملکوں کے حوالے کیا جائے۔ قطر کے زیر انتظام الجزیرہ اور دیگر چینلوں کو بند کیا جائے۔

مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ قطر دیگر ممالک کے اندرونی امور اور بیرونی مفادات میں مداخلت کا سلسلہ روک دے ، مذکورہ چاروں عرب ممالک میں سے کسی ملک کی شہریت کے حامل کسی بھی شہری کو قطری شہریت نہ دی جائے اور ماضی میں ان ممالک کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جن افراد کو بھی شہریت دی گئی ان کی شہریت کو منسوخ کیا جائے۔ ان چاروں ممالک کے حزب اختلاف سے تعل رکھنے والے عناصر سے تعلقات منقطع کرے۔

چاروں عرب ممالک نے قطر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام شعبوں (عسکری ، سیاسی ، اقتصادی، سماجی اور سکیورٹی) میں اپنے اطراف خلیجی ممالک کے ساتھ اتفاق و اتحاد رکھنے والی ریاست بنے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی تمام شخصیات سے متعلق معلومات بھی فراہم کرے جن کو دوحہ نے سپورٹ پیش کی اور سپورٹ کی نوعیت بھی واضح کرے۔ ان تمام ذرائع ابلاغ کو بند کیا جائے جن کی قطر بلا واسطہ یا بالواسطہ سپورٹ کرتا ہے۔

بحرینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ تمام مطالبات ریاض معاہدے کی شقوں سے زیادہ مختلف نہیں جن پر 2014 میں قطر دستخط کر چکا ہے۔ لہذا قطر کے سامنے ان مطالبات کو مسترد کرنے کی کوئی حجت باقی نہیں رہی۔