.

قطر سے تنازع سیاسی ہے، دوحہ فوجی حدت بڑھا رہا ہے: بحرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے کہا ہے کہ قطر کے ساتھ اختلاف سیاسی اور سیکیورٹی کے حوالے سے ہے۔ اس کا کوئی فوجی پہلو نہیں تاہم دوحا اپنے ہاں غیر ملکی افواج کو اڈے فراہم کر کے کشیدگی میں زیادہ اضافے کا مرتکب ہو رہا ہے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’’ٹویٹر‘‘ پر ایک ٹویٹ کے ذریعے خالد بن احمد نے واضح کیا ہے کہ ’’قطر سے قطعاً کوئی فوجی تنازع نہیں، ہمارے اختلاف کا پہلو سیکیورٹی اور سیاسی نوعیت کا ہے۔ غیر ملکی فوج اور بکتر بند گاڑیاں قطر منگوا کر اس کشیدگی کو مزید ہوا دی جا رہی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری قطر پر عاید ہوتی ہے۔‘‘

بحرینی وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے مزید کہا کہ قطر کی جانب سے بعض علاقائی طاقتوں کو تنازع میں ملوث کرنا دراصل غلط اقدام ہے۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ’’غلط‘‘ اقدام قرار دیا۔

ٹویٹر پیغام میں بحرینی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’’بعض علاقائی طاقتوں کا یہ سمجھنا کہ ان کی مداخلت سے تنازع حل ہو جائے گا، دراصل غلط سوچ ہے۔ ان طاقتوں کو چاہئے کہ وہ علاقائی نظام کا احترام کریں کیونکہ وہی کسی ہنگامی صورتحال کے حل کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔‘‘

یاد رہے کہ ترک وزیر اعظم نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک قطر کا بائیکاٹ کرنے والے خیلجی ملکوں کے مطالبات کو مسترد کرتا ہے۔ قطر میں ترکی فوجی بیس بند کرنے کا مطالبہ انقرہ کی توہین ہے۔

درایں اثنا متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرگاش نے ترکی سے ہوش اور عقل کے ناخن لینے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ انقرہ قطر اور عرب، خلیجی ملکوں کے ساتھ بحران میں کسی فریق کا ساتھ دینے سے گریز کرے۔