.

’پرانے موصل شہر کا دوتہائی علاقہ داعش سے آزاد کرالیا گیا‘

عراقی فوج نے شہر سے باہر سے داعش کا حملہ پسپا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سیکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیم ‘داعش‘ نے دھوکہ دے کر موصل کے باہر سے عراقی فوج پر عقب سے حملہ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے داعش کا شہر کے باہر سے حملہ پسپا کردیا ہے۔

عراقی سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے مغربی موصل کے پرانے شہر کے دو تہائی حصے کو ایک ہفتے کی لڑائی کے بعد داعش سے آزاد کرالیا ہے۔

داعش کے ہاتھوں شہید ہونے والی تاریخی جامع مسجد النوری کے بڑے مینار کے ملبے کے قریب سے بات کرتے ہوئے عراقی فورسز کے اہلکار کیپٹن سلام العبیدی نے بتایا کہ وہ تاریخی مسجد کے شہید مینار سے پچاس میٹر کی دوری پر ہے۔

عراق انسداد دہشت گردی فورس کے عہدیدار نے بتایا کہ پرانے موصل کا 65 سے 70 فی صد علاقہ داعش سے آزاد کرالیا گیا ہے۔ اب صرف ایک مربع کلو میٹر کا رقبہ داعشی دہشت گردوں کے پاس ہے جہاں سیکڑوں کی تعداد میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔

تباہ شدہ مینار کے کھنڈرات

عراق کے شہر موصل کے مغربی حصے میں داخل ہونے کے بعد کچھ ہی فاصلے پر شہر کا قدیم حصہ شروع ہوجاتا ہے۔ پرانے موصل کی دیگر تاریخی علامتوں میں جامع مسجد النوری اور اس کا ٹیڑھا مینار نہ صرف موصل بلکہ پورے عراق میں مشہور ہیں۔ یہ مینار بارہویں صدی عیسوی میں تعمیر کیا گیا اور اسے آجسے چار روز قبل نام نہاد دولت اسلامی ’داعش‘ نے بارود سے اڑا کر کھنڈر میں تبدیل کردیا۔

جامع مسجد النوری داعش اور اس کی خود ساختہ خلافت کے لیے بھی علامتی اہمیت کی حامل سمجھی جاتی تھی۔ جولائی 2014ء کو عراق اور شام کے وسیع علاقے پر اپنی خلافت کے قیام کے بعد داعشی سربراہ ابو بکر البغدادی نے اسی مسجد سے خلافت کا اعلان کیا تھا۔

دریائے دجلہ کے مغربی کنارے پر واقع پرانا موصل شہر کوئی تین مربع کلو میٹر کےعلاقے پر محیط ہے۔ گنجان آباد ہونے کے ساتھ ساتھ یہ علاقہ تنگ گلیوں اور پیچیدہ راستوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ جنگ کے نتیجے میں اس کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

داعش کے خلاف گذشتہ تین سال سے جاری لڑائی کے دوران حالیہ ایام میں گھمسان کی جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر تباہی اور بربادی ہوئی ہے۔ شہر میں منہدم ہونے سے بچ جانے والی عمارتیں بھی محفوظ نہیں رہی ہیں۔

موصل میں داعش کے خلاف لڑائی اب آخری مراحل میں ہے۔ دہشت گرد چاروں طرف سے محصور ہوچکےہیں۔ ان کے پاس لڑتے ہوئے ہلاک ہونے یا ہتھیار ڈالنے کے سوا اب کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔ داعشی دہشت گرد دفاع میں بارود سے بھری گاڑیاں، ہاون راکٹ، خود کش بمبار اور نشانہ بازوں کا استعمال کررہے ہیں۔