دوحہ کے ہوٹل اور ہوائی اڈے یومیہ 27 ہزار مسافروں سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

چار عرب ملکوں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے خلیجی ریاست قطر کےسفارتی اور معاشی بائیکاٹ کے غیرمعمولی منفی نتائج سامنا انا شروع ہوگئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق چار عرب ملکوں کے بائیکاٹ نے قطری سیاحت، ہوٹلنگ اور فضائی سروس کی آمدن کو غیرمعمولی طور پر متاثرکیا ہے۔ دوحہ کے ہوٹل یومیہ 27 ہزار گاہکوں اور قطری فضائی کمپنیاں اتنی ہی تعداد میں مسافروں سے محروم ہوگئی ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز‘کے مطابق دوحہ کے پانچ بڑے اور بہترین ہوٹلوں میں عید کےایام میں کاروباری سرمیوں کی شرح 57 فی صد رہی حالانکہ یہ ہوٹل سعودی اور اماراتی شہریوں سے بھرے پڑتے ہوتے تھے۔ لوگ بڑی تعداد میں یہاں پر عید کی تعطیلات منانےآتے تھے مگر اس بار دوحہ کے بائیکاٹ کےباعث کئی ہوٹل سنسان ہیں۔

دوحہ میں ایک پنج ستارہ ہوٹل کے ایک ملازم نے بتایا کہ عید کی چھٹیوں پر سعودی عرب اور بحرین کے گاہکوں کا غیرمعمولی رش ہوتا تھا مگر اس سال ایسا کچھ نہیں ہوا۔

فضائی آمد ورفت کے امور کے تجزیہ نگار ویل ہورٹن کاکہنا ہے کہ حمد بین الاقوامی ہوائی اڈہ مشرق وسطیٰ کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ چار عرب ممالک کی طرف سے قطر کے بائیکاٹ کےبعد جولائی میں حمد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد روفت کا تناسب 76 فی صد رہے گا اور ہوائی اڈے پر گذشتہ برس کی نسبت یومیہ 27 ہزار کم مسافروں کی آمد متوقع ہے۔

قطر میں آنے والے سیاحوں کی نصف تعداد خلیج تعاون کونسل کے شہریوں پر مشتمل رہی ہے۔ مگر جب سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصرنے دوحہ کا بائیکاٹ کیا ہے قطر کی فضائی نقل وحمل بھی متاثر ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کی طرف سے بائیکاٹ کے بعد قطر کی ہفتہ وار سیکڑوں پروازیں منسوخ ہوگئی ہیں۔ قطری حکومت غیرملکی مسافروں سے ’حمد ٹیکس‘ کے نام سے جو رقم جمع کرتی تھی، اس کی آمدن کم ہوگئی ہے۔ آنے والے دنوں میں قطری فضائیہ اور ہوٹلنگ سسٹم دونوں کو غیرمعمولی خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مسافروں کی کمی کے باعث قطری بازاروں میں خریدو فروخت کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن بھی متاثر ہوئی ہے۔ چار عرب ممالک کی طرف سے قطری فضائی کمپنیوں پر اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی سےدوحہ کی 25 فی صد سرکاری کمپنیوں کی پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ یہ پچیس فی صد قطری حکومت کی ملکیتی کمپنیوں کی پرازیں ہیں۔ اس سے قبل قطری فضائی سروس کو خطے کی تین بڑی فضائی کمپنیوں میں سے ایک شمارکیا جاتا تھا۔

دبئی میں قائم ایک تھینک ٹینک ’ٹی آر آئی‘ کےڈائریکٹر رشید بکر نے کہا کہ بائیکاٹ کے نتیجے میں قطری سیاحت، ہوٹلنگ اور فضائی کمپنیاں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ قطری ہوٹلنگ اور سیاحت کے شعبوں سےوابستہ افراد اور کمپنیوں خو خسارہ پورا کرنے کے لیے دیگر سروسز اور ذرائع اختیار کرنا ہوں گے۔ بائیکاٹ کا ایک منفی نتیجہ اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کی شکل میں بھی نکلا ہے جس کے نتیجے میں قطری ہوٹلنگ اور سیاحت پر مزید منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔

قطر سنہ 2022ء میں فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ فٹ بال ورلڈ کپ کی انتظامی کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ چار عرب ملکوں کی طرف سے بائیکاٹ سے ورلڈ کپ کی تیاریوں پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں جاری تعمیراتی منصوبوں کے لیے وہ میٹریل کےحصول کے لیے متبادل راستے اختیار کریں گے۔

قطری حکومت 2022ء کے فٹ بال ورلڈ کپ میں آنے والے شائقین اور تماشائیوں کی خاطر 46 ہزار کمرے تیار کررہی ہے۔ مارچ 2022ء تک وحہ کو 119 ہوٹلوں میں سیاحوں کے لیے 23 ہزار 347 کمرے تیار کرنا ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں