شامی حکومت کو امریکی دھمکیاں ناقابلِ قبول ہیں: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

روس نے شامی حکومت کے لیے امریکی دھمکیوں کی پُر زور مذمت کی ہے۔

کریملن کے ترجمان دِمتری بیسکوف نے صحافیوں کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم شامی حکومت کے خلاف اس طرح کی دھمکیوں کو ناقابلِ قبول شمار کرتے ہیں۔ بیسکوف نے مزید کہا کہ وہ ان وجوہات یا شواہد کو نہیں جانتے جن کا سہارا لے کر واشنگٹن الزامات عائد کر رہا ہے۔

اس سے قبل امریکی وہائٹ ہاؤس کی جانب سے منگل کی صبح انکشاف کیا گیا کہ شامی حکومت ممکنہ کیمیائی حملے کے واسطے تیاری کر رہی ہے۔

امریکی صدارتی ترجمان شون اسپائسر نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ "حالیہ تیاریاں اُسی نوعیت کی ہیں جو چار اپریل کو کیمیائی ہتھیار سے حملے سے قبل کی گئی تھی اور جس میں اِدلب کے نواح میں خان شیخون کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا"۔

حملے میں کم از کم 100 افراد جاں بحق اور 400 کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔ اس کارروائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مجبور کر دیا کہ وہ شام میں بشار حکومت کے "الشعیرات" فضائی اڈے پر عسکری ضرب لگانے کی ہدایات جاری کریں۔ جوابی کارروائی میں مذکورہ شامی اڈے پر 59 کروز میزائل داغے گئے۔

اسپائسر نے خبردار کیا کہ "اگر بشار نے کوئی دوسرا کیمیائی حملہ کیا تو اسے اور اس کی فوج کو بھاری قیمت چکانا ہو گی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں