.

داعش کے زیر کنٹرول شامی علاقوں میں تنظیم کی جاری کرنسی کے استعمال کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں داعش تنظیم نے دکان داروں اور تاجروں کے لیے حکم جاری کیا ہے کہ وہ منگل کے روز سے تمام اشیاء اور سامان کی قیمت تنظیم کی "درہم" کرنسی میں متعین کریں۔ تنظیم نے اپنے درہم کی کرنسی ایک ہزار شامی لیرہ (1.80 ڈالر) کے برابر مقرر کی ہے۔ اگرچہ زمین طور پر تنظیم کے کنٹرول میں کمی آئی ہے تاہم اس کے باوجود وہ اپنی مالیاتی پالیسی لاگو کرنے کے واسطے کوشاں ہے۔

داعش کے پلیٹ فارموں پر جاری صوتی پیغام میں تنظیم نے 25 جولائی سے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں شامی کرنسی کے 1000 اور 50 والے نوٹوں کے لین دین پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس کے استعمال سے خبردار کیا ہے۔

شام اور عراق میں اس شدت پسند دہشت گرد تنظیم کے ہاتھوں سے اراضی کا بڑا حصہ نکل چکا ہے۔ تنظیم شام میں اپنے گڑھ الرقہ شہر میں محصور ہے جب کہ امریکا کی حمایت یافتہ فورسز نے شہر پر کنٹرول کے لیے اپنے حملے کی کارروائی کو جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ داعش تنظیم عراق کے شہر موصل میں بھی شکست کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ داعش نے اپنی قیادت کو الرقہ کے جنوب مشرق میں المیادین شہر منتقل کر دیا ہے۔ یہ شہر عراقی سرحد کے نزدیک شامی صوبے دیر الزور میں واقع ہے۔

داعش کی جانب سے جاری نوٹفکیشن میں شامی کرنسی کے 500 لیرہ والے نوٹ پر پابندی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کرنسی کی شرح مبادلہ کا اعلان روزانہ کی بنیاد پر کرے گی۔ داعش نے 2015ء میں اپنی کرنسی کا اعلان کیا تھا۔