.

قطر جی سی سی یا ایران میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے: امارات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس میں متحدہ عرب امارات کے سفیر عمر غباش کا کہنا ہے کہ قطر کا بائیکاٹ کرنے والے عرب ممالک خلیجی ریاست پر نئی پابندیاں عاید کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

برطانوی اخبار ’’دی گارجیئن‘‘ سے گفتگو میں غباش نے باور کرایا کہ قطر کو خلیج تعاون کونسل اور ایران میں سے کسی ایک کو چُننا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ "افسوس کی بات یہ ہے کہ قطر ایران کے ہاتھوں میں کھلونا بنا رہا اور اس نے طویل عرصے تک شدت پسند جماعتوں کی حمایت کی"۔

اماراتی سفیر کا کہنا تھا کہ قطر کی جانب سے سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر کے مطالبات کا مثبت صورت میں جواب سامنے نہیں آ رہا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ مطالبات مسترد کرنے کی صورت میں قطر کو نہ ختم ہونے والی تنہائی کا سامنا ہو گا۔

غباش کے مطابق "دوحہ کو خلیج تعاون کونسل سے خارج کر دینا واحد مجوزہ آپشن نہیں ہے۔تجارتی شراکت داروں کو بھی ہمارے یا پھر قطر کے ساتھ معاملات کا اختیار دیا جائے گا"۔

ادھر سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے منگل کے روز واشنگٹن میں امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بائیکاٹ کرنے والے ممالک کی جانب سے قطر کو پیش کیے گئے 13 مطالبات کی فہرست کے حوالے سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اور اب گیند قطر کے کورٹ میں ہے جس کو خطے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے لیے اپنی سپورٹ کو روکنا ہو گا۔