.

مصر کا لیبیا سے آنے والے 12 گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر فضائی حملہ

مصر کی مغربی سرحد کی جانب آنے والی گاڑیوں پر اسلحہ اور گولہ بارود لدا ہوا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری فضائیہ نے لیبیا سے آنے والے ایک قافلے میں شامل بارہ گاڑیوں کو بمباری کرکے تباہ کردیا ہے۔مصری فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان گاڑیوں پر اسلحہ ، ہتھیار اور گولہ بارود لدا ہوا تھا۔

بیان کے مطابق فضائیہ نے جرائم پیشہ عناصر کی مغربی سرحد پر موجودگی کی اطلاع کے بعد یہ کارروائی کی ہے ۔وہ مبینہ طور پر سرحد عبور کر کے مصری علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے لیکن فوج نے حملے کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے کہ کہاں اور کس جگہ پر لیبیا سے آنے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

مصری لڑاکا طیاروں نے اس سے ایک ماہ قبل لیبیا کے شہر درنہ اور اس کے نواحی علاقوں میں القاعدہ سے وابستہ مجاہدین شوریٰ کونسل کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے۔ مصر نے لیبیا میں یہ فضائی کارروائی المنیا شہر میں قبطی عیسائیوں کی ایک بس پر نقاب پوش مسلح افراد کی فائرنگ کے ردعمل میں کی تھی۔دہشت گردی کے اس حملے میں انتیس قبطی عیسائی ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ایک نشری تقریر میں کہا تھا کہ ان کا ملک ’’دہشت گردی کے کیمپوں‘‘ پر کسی بھی جگہ حملوں سے نہیں ہچکچائے گا اور اندرون اور بیرون ملک انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ مصر کسی ملک کے خلاف سازش کا حصہ نہیں ہے اور وہ صرف اپنی قومی سلامتی کا مکمل تحفظ چاہتا ہے۔