.

’الشعیرات‘ فوجی اڈے مشکوک کیمیائی سرگرمیوں پرامریکی نظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگون‘ نے کہا ہے کہ وہ شام میں صدر بشار الاسد کی فوج کے زیرانتظام ’الشعیرات‘ فوجی اڈے پر مشکوک کیمیائی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

پینٹا گون کا کہنا ہے کہ الشعیرات کے فضائی فوجی اڈے پر دیکھی گئی سرگرمیوں سے شبہ ہوتا ہے اسد رجیم رواں سال اپریل میں خان الشیخون کے مقام پر ایک وحشیانہ کیمیائی حملے کی طرز پر ایک اور کیمیائی حملے کی تیاری کررہی ہے۔

خیال رہے کہ اپریل میں خان شیخون کےمقام پر مبینہ کیمیائی حملے میں ایک سو افراد کی ہلاکت کے بعد امریکا نے الشعیرات اڈے پر میزائلوں سے حملے کیے تھے اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے الشعیرات فوجی اڈے میں کیمیائی حملوں کی صلاحیت ختم کردی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جیف ڈیویز نے منگل کو بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں نے حالیہ دنوں کے دوران کی گئی مانیٹرنگ میں یہ اندازہ لگایا ہے کہ الشعیرات فوجی اڈے پر مشکوک سرگرمیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ سرگرمیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اسد رجیم ایک اور کیمیائی حملے کی تیاری کررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شامی فوج کے جنگی طیاروں کو الشعیرات میں اس مقام پرآتے جاتے دیکھا گیا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہاں کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ امریکی خفیہ اداروں نے گذشتہ دو ایک روز کے دوران تشویشناک سرگرمیاں ملاحظہ کی ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا امریکا نے یہ معلومات کیسے جمع کیں۔

ادھر وائیٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی تمام متعلقہ ایجنسیوں، وزارت دفاع، وزارت خارجہ اور ’سی آئی اے‘نے شام کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی نئے کیمیائی حملے کی حماقت سے باز رہے ورنہ اسے اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔