.

مشرقی شام میں فضائی حملے میں 30 شہری جاں بحق

نامعلوم جنگی طیاروں کی داعش کے زیرانتظام علاقے میں کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری جنگ کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے ’رصد گاہ برائے انسانی حقوق‘ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ بدھ کے روز نامعلوم جنگی طیاروں نے مشرقی شام میں داعش کے زیر انتظام علاقے میں بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 30 عام شہری جاں بحق اور دسیوں زخمی ہو گئے۔

’آبزر ویٹری فار ہیومن رائیٹس‘ کا کہنا ہے کہ مشرقی شام میں عام شہریوں کے قتل عام کا سبب بننے والے جنگی طیاروں کی شناخت نہیں کی جاسکی۔

خال رہے کہ مشرقی شام میں وادی فرات اور اس کے اطراف میں داعش کے خلاف کارروائی میں امریکا کی قیادت میں سرگرم عالمی اتحاد اور روس اور شامی فوج بھی سرگرم ہیں۔

قبل ازیں منگل کو انسانی حقوق گروپ نے بتایا تھا کہ المیادین کے مقام پر داعش کی قائم کردہ جیل پر بمباری میں کم سے کم 57 قیدی ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکا کی قیادت میں قائم اتحادی فوج کا کہنا ہے کہ المیادین میں وہ مخصوص اہداف پر نہایت احتیاط کے ساتھ حملے کررہے ہیں۔ المیادین میں دبلان کے مقام پر گذشتہ روز ہونے والے حملے کے بارے میں اتحادی فوج کی طرف سے کوئی ردعمل ظاہرنہیں کیا گیا۔

اتحادی فوج کی حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل فورسز نے دبلان سے 200 کلو میٹر شمال مغرب میں واقع الرقہ شہر کا محاصرہ کررکھا ہے۔

دوسری طرف شمال مشرقی دبلان سے 65 کلو میٹر دور شامی فوج اور اس کے اتحادی صحراء کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں جس کا مقصد دیر الزور شہر کا محاصرہ ختم کرانا ہے۔ امریکا کے ایک انٹیلی جنس عہدیدار نے بتایا کہ داعش نے اپنی لیڈر شپ المیادین منتقل کردی ہے۔