.

موصل: عراقی فورسز کا مسجد النوری پر قبضہ ، داعش کی نام نہاد خلافت کا سقوط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری طویل لڑائی کے بعد شمالی شہر موصل میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے مرکز اور تاریخی جامع مسجد النوری کی شہید عمارت پر قبضہ کر لیا ہے اور اس کے ساتھ ہی عراق میں داعش کی نام نہاد خلافت کا بھی سقوط ہوگیا ہے۔

عراقی فورسز کا 850 سال قدیم جامع مسجد النوری پر قبضہ ان کی موصل پر قبضے کے لیے داعش کے خلاف اکتوبر سے جاری لڑائی میں ایک اہم علامتی فتح بھی ہے۔عراقی فوج کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل یحییٰ رسول نے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ ’’ان (داعش) کی نام نہاد ریاست کا خاتمہ ہوگیا ہے‘‘۔

عراقی فوج کے ایک کمانڈر نے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ انسداد دہشت گردی سروس (سی ٹی ایس) کے فوجیوں نے جمعرات کے روز ایک ’’ ہلکی کارروائی‘‘ کے دوران میں مسجد النوری پر قبضہ کیا ہے۔اس کے پاس پڑوس کے مکانوں میں مقیم شہریوں کو گذشتہ چند روز کے دوران محفوظ راہ داریوں کے ذریعے نکال لیا گیا تھا۔

عراقی فوج کے ایک بیان کے مطابق امریکی فورسز کے تربیت یافتہ سی ٹی ایس کے یونٹوں نے مسجد کے نزدیک واقع الحدبہ اور سرج خانہ کے علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے اور وہ بدستور پیش قدمی کررہے ہیں۔عراقی فوج اور پولیس کے یونٹ بھی دوسری سمتوں سے اس علاقے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

عراقی فوج کے تخمینے کے مطابق قدیم شہر میں گذشتہ ہفتے داعش کے قریباً ساڑھے تین سو جنگجو موجود ہیں۔وہ صرف ایک مربع کلومیٹر علاقے میں محصور ہیں۔قدیم شہر سے جانیں بچا کر بھاگ جانے والے شہریوں نے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوشہریوں کے درمیان چھپے ہوئے ہیں ۔عراقی فوج نے گذشتہ ہفتے ان شہریوں کی تعداد پچاس ہزار بتائی تھی اور کہا تھا کہ انھیں خوراک ، پانی یا ادویہ کی قلت کا سامنا ہے۔

عراقی فورسز اب دریائے دجلہ کے مغربی کنارے میں واقع داعش کے زیر قبضہ قدیم شہر کو مفتوح کرنے کے لیے پیش قدمی کررہی ہیں اور ان کی داعش کے بچے کھچے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔مغربی موصل کے جنوب اور مغرب میں واقع چند ایک علاقے ہی اب داعش کے زیر قبضہ رہ گئے ہیں۔

یادرہے کہ مسجد النوری کا نام اسلامی تاریخ کے مشہور سپہ سالار نور الدین زنگی کے نام پر رکھا گیا تھا اور یہ مسجد 1172-73ء میں ان کی وفات سے ایک سال قبل تعمیر کی گئی تھی۔اس مسجد میں ایک اسلامی مدرسہ بھی قائم تھا۔داعش کا جون 2014ء سے اس تاریخی مسجد پر سیاہ پرچم لہرا رہا تھا اور یہیں سے داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی نے اپنی حکومت کا اعلان کیا تھا مگر اس کے بعد ان کا اس مسجد سے کوئی اور بیان ویڈیو کی شکل میں سامنے نہیں آیا تھا۔داعش نے مبینہ طور پر گذشتہ بدھ کو اس تاریخی مسجد کو دھماکوں سے اڑا دیا تھا۔

عراق کی وزارت دفاع اور امریکا کی قیادت میں اتحاد نے گذشتہ ہفتے یہ اطلاع دی تھی کہ داعش نے تاریخی جامع مسجد النوری کو دھماکوں کے ذریعے شہید کردیا ہے ۔ان کے بہ قول داعش کے جنگجوؤں نے مسجد النوری کے ڈھانچے اور مینار کی بنیادوں پر بارود نصب کردیا تھا اور پھر دھماکوں سے اس کو مسمار کردیا تھا مگر داعش نے اس الزام کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ امریکا کے ایک تباہ کن فضائی حملے کے نتیجے میں مسجد شہید ہوئی تھی۔

عراقی فورسز گذشتہ آٹھ ماہ سے تمام موصل شہر کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے لڑ رہی ہیں ۔انھوں نے ایک سو دن کی لڑائی کے بعد جنوری میں موصل کے مشرقی حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد 19 فروری کو دریائے دجلہ کے مغربی کنارے میں واقع شہر کے حصے کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ موصل میں جاری لڑائی کے دوران میں شہر سے ساڑھے آٹھ لاکھ سے زیادہ عراقی بے گھر ہو گئے ہیں ۔وہ موصل کے نواح میں قائم کیے گئے پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں یا ملک کے دوسرے علاقوں کی جانب چلے گئے ہیں۔