ایران : میزائل پروگرام اور قُدس فورس کے لیے "خطیر" بجٹ مختص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے اپنے متنازع میزائل پروگرام اور قُدس فورس پر اخراجات کو بڑھانے کے واسطے خطیر بجٹ مختص کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا تخمینہ 62 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔ قُدس فورس ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کا ونگ ہے۔ اس کا نام 2007ء سے بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق فہرست میں درج ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایرانی مجلسِ شوری میں تحقیقی مرکز کے سربراہ کاظم جلالی کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی پابندیوں سے متعلق اقدامات کے جواب میں ایرانی میزائل سرگرمیوں کی توسیع کے واسطے 1000 ارب تومان (31.25 کروڑ ڈالر) مالیت کا بجٹ مختص کیا گیا ہے.. اور اتنی ہی قیمت کا بجٹ قدس فورس کی سپورٹ کے لیے بھی مختص کیا گیا ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنی پہلی مدت صدارت کے اختتام سے دو ماہ قبل ایران کے سالانہ مالی بجٹ میں پاسداران انقلاب کے لیے مختص رقم میں 24% کا ریکارڈ اضافہ کر دیا تھا۔

روحانی نے دفاعی بجٹ میں 14 ارب ڈالر کا اضافہ کیا جس میں 53% پاسداران انقلاب کے حصے میں آیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ نے میزائلوں کی تیاری کے لیے زیرِ زمین تیسرے کارخانے کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ حاجی زادہ کا کہنا تھا کہ ایران پوری طاقت کے ساتھ میزائلوں کی تیاری اور اس کے ترقیاتی پروگرام کے علاوہ بیلسٹک تجربات کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا۔

ایرانی صدر حسن روحانی کی جانب سے بھی اعلان کیا گیا تھا کہ ان کا ملک میزائل تجربات نہیں روکے گا اور جب بھی اس کی ضرورت پڑی تو وہ یہ تجربات کرے گا۔ روحانی کا یہ اعلان امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے اُس مطالبے کے جواب میں آیا جو انہوں نے ریاض میں عرب اسلامی امریکی سربراہ کانفرنس کے دوران کیا تھا۔ ٹیلرسن نے روحانی سے مطالبہ کیا تھا کہ کہ تہران کی جانب سے بیلسٹک تجربات کو روک دیا جائے اور خطے میں ایران کے دہشت گردی نیٹ ورک کو ختم کیا جائے۔

روحانی کا مذکورہ اعلان گزشتہ پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران سامنے آیا۔ یہ اعلان روحانی کی صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران مناظروں میں دیے گئے بیان کے متضاد ہے جس میں روحانی نے بیلسٹک میزائل کے تجربات جاری رکھ کر خطے کے ممالک کو دھمکانے پر ایرانی پاسداران انقلاب کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ روحانی کا حالیہ اعلان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے میں تہران کی توسیع پسندی اور مداخلتوں کے حوالے سے ان کی حکومت کی پالیسی اپسداران انقلاب اور سخت گیر حلقوں کے لیے ہمدردی کا پہلو رکھتی ہے۔

یاد رہے کہ ریاض سربراہ کانفرنس کے اختتامی اعلامیے میں ایران پر زور دیا گیا تھا کہ وہ نیوکلیئر معاہدے کی مکمل پاسداری کرے۔ کانفرنس میں شریک رہ نماؤں نے ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات جاری رکھے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس لیے کہ یہ عالمی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں