جنوبی شام میں لڑائی میں 100 شامی فوجی ہلاک

درعا میں اسدی فوج کا بڑا آپریشن شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام کے جنوب میں واقع القنیطرہ گورنری کے البعث شہرمیں گذشتہ دو روز سے جاری لڑائی میں شامی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق البعث شہر میں اپوزیشن کےحملے میں کم سے کم 100 شامی فوجی ہلاک اوربیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔ ادھر درعا گورنری میں شامی فوج نے بڑے پیمانے پر زمینی اور فضائی حملوں کا آغاز کیا ہے۔

’العربیہ‘ کے مطابق جنوبی شام میں اسدی فوج کو کئی محاذوں پر شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور سرکاری فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ادھر وادی گولان میں کل جمعرات کو بھی اسرائیلی جنگی طیاروں نے شامی فوج کی تنصیبات پر فضائی حملے کیے ہیں۔ جنوبی درعا میں داعش سے وابستہ انتہا پسند گروپوں کے خلاف جیش الحر کا آپریشن جاری ہے۔ اس علاقے میں لشکر خالد بن ولید گروپ سرگرم عمل ہے جس کے خلاف شامی اپوزیشن فورسز نے آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جنوبی شام کی دو اہم گورنریوں القنیطرہ اور درعا میں اسدی فوج نے بھی اپنے طورپر بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا ہے۔ کئی اہم شہروں اور دیہاتوں پر اپوزیشن کے ٹھکانوں پر زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں۔ ان دونوں علاقوں کو جنگ بندی والے علاقوں میں شامل ہونے کے باوجود شامی فوج کی بمباری جاری ہے۔

اپوزیشن کی طرف سےجاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ القنیطرہ میں پانچ اپوزیشن تنظیموں نے مشترکہ طور پر کارروائی میں کم سے کم 100 شامی فوجی اور اس کے حامی غیرملکی جنگجوؤں کوہلاک جب کہ 250 کو زخمی کردیا ہے۔ اپوزیشن نے حملوں میں شامی فوج کی تین بسوں، تین توپوں سمیت بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود تباہ یا قبضے میں لے لیا ہے۔ شامی فوج نے درعا میں اپوزیشن کو شکست دینے کے لیے وسیع پیمانے پر زمینی اور فضائی حملے شروع کیےہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں القنیطرہ کے نواحی علاقے الحمیدیہ اور نبع الصخر میں کئی عام شہری جاں بحق اور زخمی ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں