.

کویت میں تنازع: دوسری شادی کے لیے مرد کا اجازت لینا "جائز نہیں "

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویتی پارلیمنٹ میں شہریوں کی ذاتی حیثیت سے متعلق قانون کی بعض شقوں میں ترمیم سے متعلق تجویز کے بعد.. دوسری شادی کے لیے شوہر کو پہلی بیوی سے اجازت لینے کے موضوع نے ملک میں تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

رکن پارلیمنٹ عمر الطبطبائی نے اس سلسلے میں قانون نمبر 51 مجریہ 1984ء کی بعض شقوں میں ترمیم کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے تحت ایک سے زیادہ شادی کی صورت میں متعلقہ ادارے کی جانب سے پہلی بیوی کو آگاہ کیا جائے گا کہ اس کا شوہر دوسری شادی کا خواہش مند ہے۔

تاہم شرعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا "شریعت کے خلاف" امر ہے۔ ماہرین کے نزدیک اس حوالے سے فقط پہلی بیوی کو آگاہ کرنے کی سفارش کی جا سکتی ہے۔

کویتی وزارت اوقاف میں فتوے کے شعبے کے رکن ڈاکٹر احمد الحجی الکردی کا کہنا ہے کہ پہلی بیوی کا اپنے شوہر کی دوسری بیوی پر آمادہ ہونا کوئی شرط نہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ دوسری شادی مرد کا حق ہے۔ کردی کے مطابق شوہر کا اپنی پہلی بیوی کو دوسری شادی کے ارادے سے مطلع کرنا محض ایک پسندیدہ عمل ہو سکتا ہے تاہم شرعی لحاظ سے اس عمل کو نہ روکا جانا چاہیے اور نہ ہی اس کو لازم کرنا چاہیے۔

دوسری جانب اوقاف اور اسلامی امور کی وزارت کے ایک ڈائریکٹر ڈاکٹر عبداللہ الشریکہ کا کہنا ہے کہ شوہر کی طرف سے پہلی بیوی کو اپنی دوسری شادی کے ارادے سے مطلع کرنے سے سماجی پہلو سے بہت سے مسائل پر روک لگا سکتا ہے۔ الشریکہ کے مطابق دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی آمادگی سے متعلق کسی بھی قسم کی شرط "شریعت کے خلاف" ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ شرعی لحاظ سے دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی آمادگی مطلوب نہیں ہوتی کیوں کہ یہ مرد کا حق ہے۔