فلسطینی خاتون رکن پارلیمان سمیت 8 فلسطینی کارکن گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

قابض صہیونی فوج نےفلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے دوران فلسطینی مجلس قانون ساز کی خاتون رکن اور سرکردہ سیاسی و سماجی رہ نما خالد جرار سمیت آٹھ فلسطینی سماجی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کی سینیر رہ نما اور فلسطینی قانون ساز کونسل کی منتخب رکن خالدہ جرار کی گرفتاری پر فلسطین کے سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج کے ترجمان افیحائی ادرعی نے کہا ہے کہ عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین اور اس کی رہ نما خالدہ جرار دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور اس کا پارلیمنٹ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

خیال رہے کہ خالدہ جرار کو 2015ء میں بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ اس وقت بھی ان پر اسرائیل کے خلاف نفرت پھیلانے سمیت متعدد الزامات عاید کیے گئے تھے۔

گذشتہ روز قابض فوج نے رام اللہ میں خالدہ جرار کے گھر پر چھاپے کے دوران گھر میں موجود قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ کی اور اہل خانہ کو ہراساں کرنے اور لوٹ مار کے بعد خالدہ جرار کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

صہیونی فوج کے ترجمان نے ’ٹویٹر‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے غرب اردن کے شہروں سے مشتبہ اشتہاریوں سمیت نو فلسطینیوں کو حراست میں لیا ہے جنہیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

مقامی فلسطینی ذرائع کے مطابق اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے غرب اردن کی سرکردہ خاتون سماجی کارکن ختام مسعافین اور سابق اسیر ایہاب مسعود سمیت متعدد دیگر کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں