.

آستانا مذاکرات کے پانچویں دور سے متعدد شامی تنظیمیں غائب؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں قیام امن کے لیے روس کی کوششوں سے وسطی ایشیائی ریاست قزاقستان کے صدر مقام آستانہ میں مذاکرات کا آج پانچواں دور شروع ہو رہا ہے۔ ان مذاکرات میں شامی اپوزیشن کے کئی گروپ شرکت نہیں کر رہے تاہم مذاکرات میں روس، ایران اور ترکی کے مندوبین شرکت کریں گے۔

آستانا مذاکرات کے ضامن فریقین میں روس، ایران اور ترکی شامل ہیں تاہم ان مذاکرات کو اقوام متحدہ، امریکا اور اردن سمیت کئی دوسرے ملکوں کی طرف سے بھی حمایت حاصل ہے۔

پانچویں آستانہ مذاکرات میں شامی رجیم کے مندوبین اور اپوزیشن کے متعدد دھڑوں کے نمائندے شرکت کریں گے تاہم شام کے جنوبی محاذ کے کئی گروپ ان مذاکرات میں غائب نہیں۔ اجلاس میں شرکت نہ کرنے والے گروپوں کا موقف ہے کہ ضامن ملکوں کے پاس اسد رجیم کے ہاتھوں شہریوں کا قتل عام روکنے کا اختیار نہیں۔ ضمانت فراہم کرنے والے تینوں بڑے ممالک روس، ترکی اور ایران اسد رجیم کے سامنے یا تو بے بس ہیں یا اس کے جرائم پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ جب تک اسدی فوج کی طرف سے نہتے شہریوں کے قتل عام کا سلسلہ بند نہیں کیا جاتا وہ مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے۔

مشرق وسطیٰ کے لیے روسی مندوب میخائل بوگدانوف نے توقع ظاہر کی ہے کہ پانچویں آستانا مذاکرات کے اختتام پر شام میں کشیدگی کم کرنے سمیت متعدد اہم نکات پر اتفاق کیا جائے گا۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی اسٹیفن دی میستورا نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ جنیوا اور آستانا میں آنے والے دنوں میں ہونے والے مذاکرات شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک حقیقی ٹیسٹ ہوگا کہ آیا وہ بحران کے دیر پا حل کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کو تیار ہیں یا نہیں۔