دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ختم نہیں کرسکتی: الحشد الشعبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق میں ایک جانب داعش کے خلاف لڑنے والے گروپوں، جن میں الحشد الشعبی بھی شامل ہے کو تحلیل کیے جانے سے متعلق ایک متنازع قانون پر غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف الحشد الشعبی ملیشیا نے دھمکی دی ہے کہ اسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ گروپ کا کہنا تھا کہ الحشد الشعبی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ دوبارہ منظم ہوجائیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں اسلامی ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کارپوریشنز کی جنرل فیڈریشن سے خطاب میں الحشد الشعبی کے وائس چیئرمین ابو مہدی مہندس نے بالواسطہ طور پرحکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

المہندس نے کہا کہ الحشد الشعبی کو دنیا کی کوئی طاقت حتیٰ کہ حکومت بھی ختم نہیں کرسکتی۔ اگر ایسا کیا گیا تو وہ دوبارہ کسی اور نام سے منظم ہوجائیں گے۔

خیال رہے کہ عراق میں قائم ایران کی پروردہ الحشد الشعبی عراقی فوج کے متوازی ایک طاقت ور ملیشیا کے طور پر کام کرتی ہے۔ عراق میں داعش کو شکست دینے کے لے لڑی گئی جنگ میں الحشد کا کلیدی کردار بتایا جاتا ہے۔

الحشد کے رہ نما نے کہا کہ ان کی تنظیم کو ختم کرنا بہت بڑا جرم ہوگا۔ الحشد کی تشکیل کے پیچھے ایک غیرمعمولی اہمیت کے حامل فتویٰ ہے۔ یہ کوئی معمولی تنظیم نہیں بلکہ پوری امت کی تحریک ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے الحشد الشعبی کے نائب سربراہ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ الحشد ایک تنظیم ہے جوسیاسی عمل یا انتخابات کاحصہ نہیں بنے گی مگر دوسری طرف تمام سیاسی جماعتیں الحشد الشعبی کا ساتھ دیں گی۔

مہدی مہندس نے عرق اور شام کی سرحد پر امریکی فوج کی تعیناتی روکنے کا مطالبہ کیا اور دھمکی دی کہ خطے میں امریکی اثرو نفوذ کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عراق، شام اور اردن کے درمیانی علاقوں پر امریکی فوج کی موجودگی کسی صورت میں قبول نہیں۔ امریکی عمان اور بغداد کو باہم ملانے والی شاہراؤں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عراق میں داعش کے خلاف حاصل ہونے والی فتح کو ہم سےچھیننے کے لیے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل بھی نصب کررکھے ہیں۔

عراقی ملیشیا کے نائب سربراہ نے دعویٰ کیا ہے دمشق اور بغداد کے درمیان رابطہ سڑک کو ہم نے کھولا ہے اور ہم خود اس کی حفاظت کریں گے۔ اس شاہراہ پر امریکیوں کا کوئی عمل دخل نہیں۔ ہماری اولین ترجیح بغداد ۔ دمشق شاہراہ پرامریکی اثرو نفوذ کو روکنا ہے۔

مہدی المہندس کا کہنا تھا کہ عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کے پیچھے ایران اور حزب اللہ کی قربانیاں بھی شامل ہیں جنہوں نے قدم قدم پر عراقی فوج اور الحشد ملیشیا کی مدد کی۔ اگر ایران اور حزب اللہ مدد نہ کرتے تو ہم یہ جنگ جلدی نہیں جیت سکتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں