قطر کے تخریبی کردار کو قبول نہیں کیا جاسکتا: عرب ممالک

عالمی برادری کو بھی دہشت گردی سے نمٹنے کی ذمے داری قبول کرنی چاہیے: مشترکہ بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے چار عرب ممالک قطر کے تخریبی کردار کو قبول نہیں کرسکتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا ہے کہ عالمی برادری کو بھی دہشت گردی سے نمٹنے کی ذمے داری قبول کرنی چاہیے۔

وہ بدھ کے روز قاہرہ میں قطر کے بائیکاٹ کرنے والے چار ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ اب صورت حال قطر پر دہشت گردی کا الزام عاید کرنے تک محدود نہیں رہی ہے بلکہ اس کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور اس پر مستزاد دوحہ کا پیچیدہ طرز عمل ہے۔

انھوں نے کہا کہ چار عرب ممالک نے عرب قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔قطر کے معاملے پر بات چیت جاری رہے گی اور اس سلسلے کا آیندہ اجلاس اب منامہ میں متوقع ہے۔

اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے بھی کہا ہے کہ قطر کے بارے میں مزید تبادلہ خیال جاری رہے گا اور اس کے خلاف مزید اقدامات کا نفاذ مناسب وقت پر کیا جائے گا۔

جب یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا قطر کو خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) سے نکال دیا جائے گا تو بحرینی وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے اس کے جواب میں کہا کہ اس موضوع پر گفتگو کے لیے یہ مناسب جگہ نہیں ہے۔البتہ انھوں نے کہا کہ قطر کی حمایت یافتہ اخوان المسلمون کو مصر میں خون ریزی کا ذمے دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔

خالد آل خلیفہ نے مزید کہا کہ آج کا اجلاس قطر پر رابطے کے لیے تھا اور مطالبات پر اس کے جواب کا جائزہ لینے کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید کا کہنا تھا کہ خطے کو دہشت گردی کے حامیوں سے پاک کرنے کے لیے بین الاقوامی کوشش کی ضرورت ہے۔

قبل ازیں آج صبح سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،بحرین اور مصر نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا اور اس میں یہ اطلاع دی تھی کہ انھیں قطر کی جانب سے کویت کے ذریعے ڈیڈ لائن سے قبل مطالبات کی فہرست کا جواب مل گیا ہے۔اس میں مزید کہا گیا تھا کہ ’’ اس کا مشترکہ جواب مناسب وقت پر دیا جائے گا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں